The news is by your side.

Advertisement

ملیریا کی دوا کورونا مریض کی زندگی کیلئے خطرناک ہے، رپورٹ

واشنگٹن : امریکہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کرونا وائرس مریض کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ملیریا کی ادویات بے اثر اور اموات میں اضافے کا باعث ہیں۔

امریکی حکومت کیے تعاون سے ہونے والے ایک مطالعے میں یہ بار سامنے آئی ہے کہ جن زیر علاج کرونا مریضوں کو ملیریا کی ادویات دی گئیں اُن کی شرح اموات علاج کے دیگر طریقوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

گو کہ اس مطالعے کا دائرہ کار محدود ہے لیکن اس بات کا انکشاف علاج پر مامور ڈاکٹروں اور عملے کیلیے حیران کن اور پریشانی کا باعث ہے۔

مذکورہ مطالعے کی رپورٹ میں امریکہ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 368 سابق فوجی اہلکاروں کے میڈیکل ریکارڈ کو بنیاد بنایا گیا ہے جو 11 اپریل تک اسپتالوں میں زیرِ علاج رہ کر صحت یاب ہوئے یا ہلاک ہوئے۔

مطالعے میں انکشاف ہوا کہ جن مریضوں کو صرف ‘ہائیڈروکسی کلوروکوئن’ دی گئی اُن کی اموات کی شرح 28 فی صد تھی جبکہ جن مریضوں کو یہ دوا ‘ایزتھرومائسیین’ کے ساتھ دی گئی اُن کی اموات کی شرح 22 فی صد تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جن مریضوں کو ان ادویات کے بجائے معمول کی طبی امداد دی گئی اُن کی اموات کی شرح صرف 11فی صد تھی۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ ادویات زیادہ بیمار مریضوں کی دی گئیں لیکن دیگر مریضوں کو بھی یہ دوا دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس سے اموات میں اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے مخصوص کورونا مریضوں کی جان بچانے کے لیے ہائیڈرو آکسی کلوروکوئین سلفیٹ اور کلوروکوئین فاسفیٹ پراڈکٹس کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی تھی۔

ایف ڈی اے نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کلوروکوئین اورہائیڈرو آکسی کلوروکوئین کورونا کے ہر مریض کے استعمال کے لیے ہرگز نہیں ہے اور یہ دوا صرف ان مریضوں کے لیے ہے جن کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہوں۔

واضح رہے کہ تاحال اس رپورٹ کا عام نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ تحقیق کے لیے65 سال سے زائد عمر کے زیادہ تر سیاہ فام افراد کا انتخاب کیا گیا جن میں سے بیشتر دل اور ذیابیطس کے مریض بھی تھے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی افادیت سے متعلق حتمی رائے اسی وقت قائم کی جا سکتی ہے، جب بڑے پیمانے پر کوئی تحقیق ہو اور زیادہ لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے البتہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں اس حوالے سے ریسرچ جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں