The news is by your side.

Advertisement

پروٹین سے کرونا کا علاج، اہم پیشرفت سامنے آگئی

لندن: برطانیہ کی دوا ساز کمپنی نے کرونا مریضوں کے پروٹین کے ذریعے آزمائشی علاج کو اہم پیشرفت قرار دے دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے کرونا مریضوں کے پروٹین سے ہونے والے علاج کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وائرس سے شدید متاثر ہونے والے مریضوں کی مشکلات کو صرف 16 دن میں 80 فیصد تک ختم کیا جاسکتاہے۔

برطانوی کمپنی کے مطابق کلینیکل ٹرائل کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کوویڈ 19 کا نیا علاج انتہائی نگہداشت کی ضرورت والے مریضوں کی تعداد کو کم کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: جرمن اور امریکی کمپنیوں کی مشترکہ کرونا ویکسین سے متعلق بڑی خبر

کمپنی کا کہنا ہے کہ کرونا سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے انٹرفیرون بیٹا نامی پروٹین کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرل انفیکشن ہونے کے بعد یہ پروٹین انسانی جسم میں پیدا ہوتا ہے جو انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کرونا مریضوں کے مدافعتی ردعمل کو متحرک کرنے کے لیے پروٹین کو  سانس (نیبولائزر) کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل کیا جارہا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

برطانوی دوا ساز کمپنی اور ماہرین نے کرونا وائرس کے مریضوں کا پروٹین سے آزمائشی علاج ایک اہم پیش رفت قرار دیا البتہ ابھی اس علاج کو باقاعدہ منظوری نہیں مل سکی۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث لاکھوں افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک عام دوا جو کرونا وائرس کو ختم کر سکتی ہے، امریکی تحقیق

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی مہلک وائرس کی ویکسین اور طریقہ علاج پر تحقیق میں مصروف ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں