The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی بگڑتی صورت حال، انڈور ریسٹورنٹس پر پابندی عائد

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر پاکستان کے لیے بہت خطرناک ہوسکتی ہے، بند کمروں والے ریسٹورنٹس پر  پابندی عائد کردی ہے۔

اسلام آباد میں معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے اسکول اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا مگر بچوں کی حفاظت کے لیے یہ قدم اٹھایا۔اُن کا کہنا تھا کہ ’ گیارہ جنوری کو صورت حال دیکھ کر اسکول کھولنے کا فیصلہ کریں گے‘۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کےرویوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ انہیں کرونا کی شدت کا احساس نہیں ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’احتیاطی تدابیراختیارنہ کیں توملک میں جون سےزیادہ کیسزمیں اضافہ ہوگا، 3ہفتوں میں کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا، اگر اب ہم نےاحتیاط نہ کی تو کروناکی دوسری لہربہت خطرناک ثابت ہوگی جس کی وجہ سے صورت حال سوچ سے زیادہ خراب ہوسکتی ہے‘۔

وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ ’11جنوری2021کو حالات دیکھ کر اسکول کھولنے کا فیصلہ کریں گے‘۔

نئی عائد ہونے والی پابندیوں کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ’بند کمروں والے ریسٹورنٹس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کھلی جگہوں پر کھانے پینے کے اسٹالز اور ڈھابوں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اس وقت بڑےبڑےسیاسی اجتماعات ہورہے ہیں جس کی وجہ سے صورت حال تشویشناک ہوتی جارہی ہے، بڑےاجتماعات پرپابندی کے فیصلےکی توثیق اسلام آباد ہائیکورٹ بھی کرچکی ہے‘۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’ملک میں سیاست کرنے پر پابندی نہیں ہے مگر سیاسی رہنماؤں کو آگاہی فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی نبھانا ہوگی، اسپیکر سے درخواست ہے کہ کرونا سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے‘۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے احساس پروگرام کے تحت پیسے تقسیم کرنے کی مخالفت کی تھی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’احتیاطی تدابیراختیارنہ کیں توملک میں جون سےزیادہ کیسزمیں اضافہ ہوگا، 3ہفتوں میں کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا، اگر اب ہم نےاحتیاط نہ کی تو کروناکی دوسری لہربہت خطرناک ثابت ہوگی جس کی وجہ سے صورت حال سوچ سے زیادہ خراب ہوسکتی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں