The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین کی کتنی خوارکیں ضروری ہیں؟

لندن : عالمی سطح پر پھیلنے والے وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے دنیا بھر میں مختلف ممالک میں ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے۔

برطانوی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی شدت پر قابو پانے کے لیے ویکسین لگوانا کافی ہے جبکہ بوسٹر خوراک کی فی الحال ضرورت نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی سائنسی جریدے “دا لینسٹ” میں پیر کو شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عام عوام کو ویکسین کی بوسٹر خوراک لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چند ممالک نے ڈیلٹا ویریئنٹ کے خدشے کے باعث ویکسین کی اضافی خوراکیں بھی لگانا شروع کردی ہیں۔

نئی سامنے آنے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کے خدشے کے باوجود وبا کی اس اسٹیج پر عام عوام کے لیے بوسٹر خوراک مناسب نہیں ہے۔ اس تحقیق کے محققین میں عالمی ادارہ صحت کے سائنس دان بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے محققین نے دیگر سٹڈیز اور کلینکل ٹرائلز کا بھی جائزہ لیا ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ سمیت کورونا کی ہر قسم کی شدید علامات کے خلاف بھی ویکسین انتہائی مؤثر رہتی ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنف اور عالمی ادارہ صحت کی سائنسدان اینا ماریو کا کہنا ہے کہ موجودہ سٹدیز معتبر ثبوت پیش نہیں کرتیں کہ کسی بھی شدید بیماری کے خلاف تحفظ میں ویکسین کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سب سے پہلی ترجیح ان افراد کے لیے ویکسین فراہم کرنے کی ہونی چاہیے جنہیں ابھی تک نہیں لگ سکی۔ تحقیق کی مرکزی مصنف اینا ماریو نے مزید کہا کہ ویکسین جلد ہی کورونا کے مزید ویریئنٹس پیدا ہونے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔

فرانس میں عمر رسیدہ افراد اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو ویکسین کی تیسری خوراک لگانا شروع کر دی ہے جبکہ اسرائیل میں بارہ اور زیادہ عمر کے بچوں کو دوسری خوراک لگانے کے پانچ ماہ بعد تیسری خوراک لگائی جا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے تمام ممالک سے کہا ہے کہ سال کے آخر تک ویکسین کی اضافی خوراک دینے سے گریز کریں۔ اقوام متحدہ نے تمام ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر تک اپنی 10 فیصد آبادی کو ویکسین لگا لیں جبکہ 40 فیصد کو سال کے آخر تک۔

برطانوی تحقیق کے مطابق کورونا کے موجودہ ویریئنٹس کی اس حد تک نشونما نہیں ہوئی کہ ویکسین ان کے خلاف مؤثر نہ ہو۔

تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ وائرس کی نئی اقسام پیدا ہونے کی صورت میں موجودہ ویکسین کی تیسری خوراک لگانے سے بہتر ہے کہ نئے ویریئنٹ کے مطابق ویکسین بوسٹرز تیار کیے جائیں جو پھر لوگوں کو لگائے جائیں۔

لندن کے ایمپیریل کالج میں متعدی بیماریوں کے ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ عذرا غنی کا کہنا ہے کہ بوسٹر ویکسین کے معاملے پر کوئی ایک نقطہ نظر نہیں اپنایا جاسکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں