The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین کا تجربہ، چین میں بندروں کی قلت

بیجنگ: چین میں کرونا ویکسین کے تجربے کے لیے بندروں کا استعمال بڑھا تو بندروں کی قلت پیدا ہوگئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین میں بندر انڈر گراؤنڈ ہوگئے؟ کرونا ویکسین کا تجربہ کرنے کے لیے بندروں کی سخت ضرورت لیکن تجربے کے لیے بندر ہی کم پڑ گئے۔

کرونا کیسز بڑھنے پر بندروں کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے جبکہ دوسرے ممالک میں بندروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق چینی لیب یشینگ بائیو فارما گذشتہ جنوری سے ویکسین کی تلاش میں شامل ہے۔ کمپنی اپنی ویکسین کی آزمائش جانوروں پر کر رہی ہے جبکہ اس کے بعد انسانوں کی باری آتی ہے۔

ان کے مطابق چوہوں اور خرگوشوں پر ویکسین کے اچھے نتائج آئے ہیں جس سے جسم میں اینٹی باڈیز بننے میں مدد ملی۔

مزید پڑھیں: کرونا ویکسین کا چوہوں پر کامیاب تجربہ، بندروں پر آزمائش شروع

کمپنی کے مطابق ویکسین صرف وائرس سے محفوظ نہیں رکھے گی بلکہ مریضوں کو صحت یاب ہونے میں بھی مدد دے گی۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی کے لیے اگلا مرحلہ ویکسین کی بندروں پر آزمائش ہے۔ یہ مرحلہ اب مہنگا ہوگیا ہے کیونکہ کئی لیبارٹریاں کووڈ 19 کے لیے اپنی ادویات اور ویکسینز کی بندروں پر آزمائش کر رہی ہیں جس سے ان کی طلب کافی زیادہ ہوگئی ہے۔

لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق پہلے ہر بندر کے لیے 1400 سے 2800 ڈالر ادا کرنا پڑتے تھے۔ لیکن اب ہر بندر کے لیے 14 ہزار ڈالر تک دینے پڑ سکتے ہیں۔ چین پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر لیبارٹریوں کے لیے بندروں کی برآمد کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں