The news is by your side.

Advertisement

کوروناوائرس: اب گفتگو کرنا بھی خطرناک قرار!

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کھانسی کے مقابلے میں گفتگو کوروناوائرس کے زیادہ پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جس مقام پر ہوا کی نکاسی کا ناقص انتظام ہو وہاں کھانسی سے زیادہ گفتگو بڑے پیمانے پر وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے، نکاسی ہوا کے بدتر نظام والے مقامات میں مہلک وائرس سیکنڈوں میں 2 میٹر سے زیادہ دور تک پھیل جاتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی اے میں شایع ہوئی ہے۔ ماہرین نے اس ریسرچ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ریاضیاتی ماڈل کا استعمال کیا اور جائزہ لینے کی کوشش کی کہ وائرس چار دیواری کے اندر کتنی تیزی سے کیوں اور کب پھیلتا ہے۔

ریسرچ کے مطابق وہ جگہ جہاں آکسیجن کی نکاسی کا بہتر انتظام نہ ہو اور لوگ ماسک بھی نہ پہنچتے ہوں وہاں کھانسی کے مقابلے میں بات چیت سے زیادہ وائرس پھیل سکتا ہے۔

کیا کورونا ویکسینز وائرس کی نئی قسم کے خلاف بھی مؤثر ہوں گی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران منہ سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوا میں معلق ہوجاتے ہیں کیوں کہ ان کے نکلنے کا راستہ نہیں ہوتا، جبکہ کھانسی کی صورت میں ذرات زمین پر گر کر بڑے حصوں پر سما جاتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کھانسی کی وجہ سے نکلنے والے ذرات 7 منٹ پر زمین پر آتے اور جم جاتے ہیں لیکن گفتگو کے دوران منہ سے نکلنے والے ذرات 30 منٹ بعد زمین پر گرتے ہیں لیکن اس دوران بھی بڑی مقدار میں ذرات ہوا میں رہتے ہیں۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کا ماسک کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر کوئی مریض وائرس کا شکار ہو اور وہ چار دیواری میں گفتگو کررہا ہو تو نکلنے والے ذرات ارد گرد لوگوں کو وائرس کا شکار کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی کورونا مریض ایک گھنٹے تک گفتگو کرے تو وبا کی دوسروں میں منتقلی کے امکانات 20 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

محققین کا مزید کہنا تھا کہ ایئروینٹی لیشن کا بہترین سسٹم ہونا بہت ضروری ہے جو وائرس کے پھیلنے کے خطرات کو کافی حد تک کم کرسکتا ہے۔ کسی مقام پر اگر ہوا ایک گھنٹے میں 10 بار بدلے تو مثبت نتائج آئیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں