The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس اب نئے انداز سے انسان پر اثر انداز ہوگا، ماہرین پریشان

دنیا بھر میں کورونا وائرس کا قہر کم ہونے کا نام نہیں لے رہا، ایسے میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ کورونا  وائرس نے انسانی جسم پر حملہ آور ہونے کیلئے نیا راستہ اختیار کیا ہے۔

یہ اس لئے کہا جارہا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے اپنی نئی  تحقیق میں یہ اخذ کیا ہے کہ  اب  یہ وائرس انسانوں میں نئے انداز سے داخل؛ ہوگا۔

ایک سائنسی میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محققین کے مطابق اب یہ وائرس انسانی جسم میں پروٹین کی مدد سے داخل ہورہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک خاص پروٹین اس وائرس کو انسانی جسم میں داخل ہونے کےلئے مدد کر رہا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باہری حصہ میں نوکیلی یا اسپائک شکل ہوتی ہے اور اس کی اوپری سطح پر ایک خاص پروٹین ہوتا ہے جو انسانی جسم میں موجود سیلز کے پروٹین اے سی ای-2 سے جڑ جاتا ہے۔

اس طرح کوروناوائرس انسانی سیلز میں داخل ہو کر اپنی تعداد بڑھاتا ہےاور آہستہ آہستہ جان لیوا وائرس پورے جسم پر قابض ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس حوالے سے مزید دو تحقیقات کی ہیں، سائنسدانوں نےاس دوران انسانی سیلز میں موجود نیوروپلن-1 نامی پروٹین کا پتہ لگایاہے۔ یہ پروٹین بھی انسانی جسم میں کورونا وائرس کے ریسپیریٹر کی طرح ہی کام کرتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں انگلینڈ کی برسٹل یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے بتایا ہے کہ نیوروپلن -1 پروٹین سے کورونا وائرس کے جسم میں داخل ہونے کا پتہ لگایا ہے۔

واضح رہے کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سیلز میں موجود نیوروپلن-1 پروٹین کےحصہ وائرس پر موجود تھے اوریہ وائرس اس پروٹین پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ جرمنی اور فنلینڈ کے تحقیق کرنے والوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں