The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے

فرانس : کورونا وائرس سے متعلق فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس سے صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اس سے نسوں میں خون بھی جمنے لگتا ہے جس سے دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

پوری دنیا اس وقت کورونا کی وبا کا سامنا کر رہی ہے، مختلف ممالک کے سائنسداں دن رات ویکسین بنانے میں مصروف ہیں۔ اس بیماری کے حوالے سے لگاتار مطالعے اور تحقیق بھی ہو رہی ہیں جن سے نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے جسم کے کئی حصوں کی نسوں میں خون بھی جمنے لگتا ہے۔

کوویڈ 19 انفیکشنز کی وجہ سے نسوں خون جمنا شروع ہوسکتا ہے، جس سے انسان کے جسم کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال پھیپھڑوں میں خون جمنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہیپی ہائیپوکسیا کی شکل میں نظر آتی ہے، جس میں جسم کا آکسیجن خطرناک حد تک کم ہونے کے باوجود بھی مریض کو بظاہر کسی قسم کی تکلیف نہيں ہوتی۔

رپورٹس کے مطابق خون جمنے سے گردے، خون کی شریانیں، آنتیں، جگر، اور دماغ سمیت جسم کے کئی اعضاء متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 38 فیصد شدید بیمار افراد خون جمنے سے وابستہ مسائل کا شکار ہوتے ہيں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک اسپتال میں کورونا کے تقریباً 100 مریض تھے جن میں سے 23 کافی سنگین حالت میں تھے، ان 23مریضوں کے پھیپھڑوں کی دھمنیوں میں خون کے تھکّے جم گئے تھے۔

مطالعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا مریض کے پلیٹلیٹس بھی کم ہونے لگتی ہیں۔ پلیٹلیٹس کاؤنٹ کا کم ہونا بھی کورونا وائرس کی علامت ہے۔ پھیپھڑوں سے انفیکشن آگے بڑھنے پر یہ جسم کے دیگر حصوں پر حملہ کرتا ہے اور جسم کے دیگر حصوں کی نسوں میں خون جمنے لگتا ہے۔

واضح رہے کہ اب تک پوری دنیا میں اس وائرس نے اب تک 1.14 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے اور 5.33 لاکھ سے زائد لوگ موت کا شکار بن چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں