The news is by your side.

Advertisement

کیا کورونا وائرس نے انفلوئنزا کو ختم کردیا؟ ماہرین کا انکشاف

عالمی ادارہ صحّت اور دنیا بھر کے طبی ماہرین کورونا کی وبا اور اس وائرس سے ہلاکتوں کے ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں‌ کہ موسمِ سرما میں انفلوئنزا کے کیسز بڑھ سکتے ہیں‌ اور ایسی صورت میں بڑے پیمانے ہلاکتوں کے ساتھ صحت کا نظام بھی خطرے میں‌ پڑ سکتا ہے، لیکن ایک مطالعے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ انفلوئنزا کے کیسز میں 98 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

انفلوئنزا وبائی مرض ہے جو نظام تنفس اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کا وائرس زیادہ تر کم زور یا ایسے لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جن کی قوتَ مدافعت بہتر نہ ہو، انفلوئنزا وائرس ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق وائرس سردیوں اور خزاں کے موسم میں انفلوئنزا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس وائرس نے 1918 میں دنیا بھر میں 20 سے 30 سال کی عمر کے افراد کو جن کا مدافعتی نظام مضبوط تھا، انہیں اپنا شکار بنایا تھا۔

اس وقت جب کہ دنیا کے اکثر ممالک کوویڈ 19 کی دوسری لہر سے متاثر ہیں، ماہرین اس وبائی مرض کے ساتھ ساتھ انفلوئنزا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کرنے پر زور دے رہے تھے۔ تاہم اس حوالے سے ایک طبی جائزے میں سامنے آیا ہے دنیا بھر میں انفلوئنزا کیسز میں 98 فیصد کمی ہوئی ہے اور یہ گزشتہ سال کی نسبت حیران کن حد تک کم ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ انفلوئنزا کیسز میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بہت سے ممالک میں کورونا کے ساتھ انفلوئنز کے کیسز میں اضافے، اور موسم سرما میں وائرس کے پھیلاؤ سے خوفناک صورتحال پیدا ہوجانے کا خدشہ تھا اور کہا جارہا تھاکہ یہ وائرس صحت کے نظام کو تباہی کی طرف دھکیل سکتے ہیں، کیونکہ فلو سے ہر سال 10،000 برطانوی ہلاک ہوجاتے تھے اور اب کوویڈ 19 کی دوسری مہلک لہر کے باعث اس تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ برطانوی حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا فلو ویکسینیشن پروگرام شروع کیا، جس میں اس وائرس کے خلاف ویکسین کا استعمال پہلے 65 سال سے زیادہ اور ساتھ ہی کم عمر افراد میں کیا جانا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ فلو ختم ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کے کیسز میں کمی کا انکشاف اس وقت ہوا جب رواں سال مارچ میں فلو سیزن کے ختم ہونے پر کوویڈ 19 پھیلا تھا۔ اور اس کی تصدیق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے جمع کردہ اعداد و شمار میں بھی ہوئی۔

اس حوالے سے اعداد و شمار میں یہ بھی سامنے آیا کہ دنیا کے تقریباً نصف حصے میں جہاں موسم گرما میں فلو کا زور ہوتا ہے، وہاں رواں سال آسٹریلیا جیسے ملک میں اپریل میں صرف 14 فلو کے کیسز دیکھے گئے تھے جبکہ 2019 میں اسی ماہ کے دوران 367 کیس ریکارڈ ہوئے تھے اور اس میں 96 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار اور ماہرین کے مطابق اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، اس کے علاوہ چلی میں اپریل اور اکتوبر کے درمیان فلو کے صرف 12 کیسز کا پتہ چلا جبکہ 2019 میں اسی عرصے کے دوران ان کی تعداد تقریبا 7،000 تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں