The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس بات چیت سے بھی پھیل سکتا ہے، تحقیق میں انکشاف

نیویارک: کرونا وائرس سے متعلق روز نت نئی تحقیقات اور علامات سامنے آرہی ہیں ایک اور علامات نے لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف نبراسکا میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں‌ بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس صرف چھینک یا کھانسی سے نہیں بلکہ بات چیت سے بھی پھیل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بولنے کے دوران منہ سے نکلنے والے ننھے ذرات فضا میں ایک گھنٹے سے زائد وقت کے لیے معلق رہتے ہیں اور یہ چھوٹے چھوٹے ذرات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوکر کرونا وائرس کا باعث بن سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ماسک کا استعمال انتہائی ضروری ہے اس سے مہلک وبا سے بچا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ گھر میں موجود افراد بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں، طبی ماہرین نے گھر میں موجود افراد کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سے قبل کرونا وائرس کی ہوا میں موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں جبکہ مہلک وبا چھینکنے اور کھانسنے بھی پھیلنے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

یاد رہے کہ کرونا سے متاثر ہونے اور مرنے والے افراد کی تعداد میں یومیہ بنیادوں پر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ویکسین کے معاملے میں اب تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔

بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ 99 ہزار 660 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ 19 ہزار 609 تک پہنچ گئی ہے۔

دنیا بھر میں کرونا کے 53 لاکھ 63 ہزار 591 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز  میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 63 ہزار 637 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 91 لاکھ 16 ہزار 460 افراد وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں