The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس کی نئی اقسام کا تیزی سے پھیلاؤ، ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کردیا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل میں کورونا وائرس کی نئی متغیر اقسام نے تیزی کے ساتھ ابتدائی وباء کی جگہ لے لی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی منگل کے روز جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں گزشتہ اکتوبر سے نئی متغیر اقسام کے انفیکشن تیزی کے ساتھ پھیل کر ان ممالک میں دریافت ہونے والے متاثرین کی تعداد کا بیشتر حصہ بن چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی متغیر اقسام کے متاثرین کا تناسب برازیل میں انفیکشنز کا تقریباً نصف ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق ابتدائی اقسام کے مقابلے میں متغیر اقسام سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں مجموعی اضافے کا تخمینہ شدہ تناسب سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت ہونے والی متغیر قسم کے لیے41 فیصد رہا۔

سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں پائی گئی متغیر قسم کے لیے 36 فیصد اور برازیل میں دریافت ہونے والی متغیر قسم کے لیے گیارہ فیصد ہے۔ اس سے مراد اُن لوگوں کی اوسط تعداد ہے جن کو ایک متاثرہ فرد متاثر کرے گا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ والی متغیر قسم ایک ہفتے کے دوران مزید سات ملکوں میں دریافت ہوئی ہے اور مجموعی طور پر 125 ممالک اس متغیر قسم کے متاثرین کی اطلاع دے چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی متغیر قسم کے متاثرین کی اطلاع دینے والے ملکوں کی تعداد، ایک ہفتے کے دوران 11 کے اضافے کے ساتھ 75 ہو گئی ہے۔ برازیل کی متغیر قسم کے متاثرین کی اطلاع دینے والے ملکوں کی تعداد 3 کے اضافے سے 41 ہو گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او، مذکورہ تین متغیر اقسام کو باعثِ تشویش متغیر اقسام قرار دیتے ہوئے ان پر اپنی نگرانی سخت تر کر رہا ہے۔ اس تازہ ترین رپورٹ میں دلچسپی کی حامل متغیر اقسام کے طور پر مزید دو کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں اتوار تک کے ہفتے میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد مسلسل چوتھے ہفتے بڑھی ہے، جس کی جزوی وجہ یہ ہے کہ برازیل، بھارت اور فرانس میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نئی اموات کی تعداد بھی چھ ہفتے کمی کے بعد مذکورہ ہفتے میں بڑھ گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں