The news is by your side.

Advertisement

کرنسی نوٹ کی لین دین کرونا وائرس کے پھیلنے کی بڑی وجہ؟

جینیوا: عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرنسی نوٹ کی لین دین کرونا وائرس کے پھیلنے کا باعث بن سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ فرد کے ہاتھ سے دوسرے کو دیا جانے والا کرنسی نوٹ وائرس کو ایک سے دوسرے شخص میں منتقل کرسکتا ہے لہذا اس معاملے میں احتیاط برتی جائے۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق جراثیم اور وائرس کرنسی نوٹ پر زیادہ جمع ہوتے ہیں، نوٹ کو استعمال کرنے کے بعد متاثرہ ممالک کے شہری ہاتھ ضرور دھوئیں اور جس حد تک ممکن ہو کیش لین دین سے اجتناب کریں۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟؟

برطانوی اخبار کےمطابق کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ کرنسی نوٹ، دروازے کے ہینڈل، دفاتر کےباورچی خانے اور کینٹین، اے ٹی ایم مشین، زینے کی ریلنگ، ٹیلیفون  اور طیارے کی نشستیں بھی ہوسکتی ہیں۔

اس ضمن میں جنوبی کوریا نے کرنسی نوٹ جمع کرنے کے انہیں صاف کرنے کے لیے قرنطینہ میں رکھ دیا جبکہ ایرانی حکومت نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ کرنسی نوٹوں کو کم سے کم استعمال کریں۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ  بے جان اشیاء سے کرونا وائرس کی منتقلی کا امکان ویسے تو بہت کم ہےلیکن احتیاط ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس: پاکستان کے کن اسپتالوں میں ٹیسٹ کی سہولت دستیاب ہے؟

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دیا اور کئی ممالک سے اپیل کی کہ وہ روک تھام کے لیے اقدامات بروئے کار لائیں۔

اب تک کرونا وائرس دنیا کے 114 میں پھیل چکا ہے جس سے چار ہزار 993 افراد کی اموات ہوئیں۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وبا تاحال بے قابو ہے، دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں