The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس نے دولت مندوں کو مزید خوشحال کیسے بنایا؟

دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والی وبا کورونا وائرس نے جہاں لوگوں سے ان کے روزگار چھین لیے تو وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کیلئے کورونا وائرس نے دولت کے انبار لگا دیئے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے بنک بیلنس میں کروڑوں روپے کا اضافہ ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں ایک ملین یعنی 10 لاکھ ڈالرز کی دولت رکھنے والوں کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

منگل کو کیپ جیمینی کے جاری کردہ نئے ڈیٹا کے مطابق کُل ملا کر ان لکھ پتیوں کی دولت 90 ٹریلین ڈالر بنتی ہے اور صرف گزشتہ سال ان کی دولت میں 7.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اگر 10 لاکھ ڈالرز سے زیادہ دولت رکھنے والے افراد کو دیکھا جائے تو ان کی تعداد میں سال2020ء میں6.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو کرونا وائرس کی وبا اور اس کے عالمی معیشت پر بھیانک اثرات کو دیکھتے ہوئے حیران کن لگتا ہے۔

جن ممالک میں ملین ڈالرز رکھنے والے لوگ سب سے زیادہ ہیں، وہ بالترتیب امریکا، جاپان، جرمنی اور چین ہیں۔ جرمنی میں15,35,000 ملینیئرز کی دولت میں وبا کے دوران4.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔

اس کے مقابلے میں امریکا کے65,75,000 ملینیئرز کی دولت12.3 فیصد بڑھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وبا سے وہ صنعتیں زیادہ متاثر ہوئیں کہ جو یورپ میں زیادہ مقبول ہیں۔

مثلاً فیشن، سیاحت اور ریٹیل جبکہ ٹیکنالوجی اور مارکیٹ ویلیو ایشن جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں کا منافع امریکا کے امیر گھسیٹ کر لے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ سال تک ایشیا کا غلبہ رہنے کے بعد وبا کی وجہ سے امریکا دوبارہ نمبر ایک بن گیا ہے۔

اگر انتہائی امیر افراد کی بات کی جائے، یعنی کم از کم 3 کروڑ ڈالرز کی دولت رکھنے والوں کی تو ان کی دولت میں گزشتہ سال ہونے والا اضافہ 9 فیصد ہے۔

دوسری جانب علاقوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو شمالی امریکا میں 10 لاکھ ڈالرز یا اس سے زیادہ کی دولت رکھنے والوں کی تعداد میں 10.7فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یورپ میں یہ اضافہ محض2.8 فیصد رہا جبکہ مشرق وسطیٰ میں 6.8 فیصد، ایشیا و بحر الکاہل میں5.8 فیصد اور افریقہ میں صرف2.7 فیصد رہا۔ جنوبی امریکا وہ واحد بر اعظم ہے کہ جہاں اس رپورٹ کے مطابق دولت مندوں میں کمی آئی ہے اور شرح منفی4 فیصد رہی۔

یہ ادارہ شیئرز کی قیمتوں حاصل کردہ بونڈز، متبادل سرمایہ کاری، نقد اور املاک کا حساب لگاتا ہے۔ دولت اور ویلتھ مینیجرز کے علاوہ یہ ادارہ بین الاقوامی اداروں مثلاً عالمی بینک کے ڈیٹا کو بھی استعمال کرتا ہے اور یوں ورلڈ ویلتھ رپورٹ تشکیل دیتا ہے۔ یہ اس رپورٹ کا 25 واں سال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں