The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کی کتنی اقسام انسان پر حملہ آور ہوئی ہیں؟ جانیے

کورونا وائرس ایک خاندان کا نام ہے، اور اس کی دیگر اور بھی اقسام ہی جو وقت گزرنے ساتھ ساتھ سامنے آتی رہیں، ان میں سے ایک کوویڈ انیس ہے جس نے اس وقت پوری دنیا میں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

اس حوالے سے اب تک کی جانے والی تحقیق کے مطابق نئے نوول کورونا وائرس کی 3 بنیادی اقسام لوگوں کو متاثر کررہی ہیں اور یہ اندازوں سے زیادہ پہلے انسانوں میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔

دنیا میں زیادہ تر لوگ اپنی زندگی میں کم از کم ایک وائرل انفیکشن کا شکار لازمی ہوتے ہیں اور زیادہ تر افراد خود بخود ہی اس سے صحتیاب بھی ہو جاتے ہیں، کورونا وائرس ایک خاندان کا نام ہے یہ بہت پرانا وائرس ہے جو 1930 میں مرغیوں میں دریافت ہوا، پھر یہ 1940 میں چوہوں میں دریافت ہوا۔

انسانوں میں کورونا وائرس سب سے پہلے 1960 کی دہائی میں دریافت ہوا۔ یہ سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ہیومن (انسانی) کرونا وائرس ای 229اور او سی 43کا نام دیا گیا تھا، اس کے بعد اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔

نیا کورونا وائرس کی نئی نسل سے تعلق رکھنے والے وائرس کی ایک حال ہی میں سامنے آنے والی قسم ہے، اس نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی پہلی بار شناخت چین کے شہر ووہان میں ہوئی اور اسے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کو 2019(کووِڈ- 19) کا نام دیا گیا۔ بیماری کے اس نام میں ’کو‘ کا مطلب ’کورونا‘’وی‘کا مطلب ’وائرس‘جبکہ ’ڈ‘کا مطلبdiseaseیعنی بیماری ہے۔اس سے قبل اس بیماری کو’2019 نیا کورونا وائرس‘یا ’2019–این کو‘کا نام بھی دیا گیا تھا۔

کورونا وائرس کی اقسام 

محققین نے دریافت کیا ہے کہ اس وائرس کی 3 اقسام ہیں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں، محققین کے مطابق چین کے شہر ووہان اور مشرقی ایشیا میں پھیلنے والا کورونا وائرس درحقیقت اس کی اصل قسم نہیں بلکہ یہ ٹائپ بی قسم ہے جو اوریجنل سارس کوو 2 وائرس یا ٹائپ اے سے بنا۔ یہ ٹائپ اے وائرس ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے براستہ پینگولین انسانوں میں چھلانگ لگا کر پہنچا تھا۔

حیران کن طور پر اب ٹائپ اے ورژن امریکا اور آسٹریلیا میں زیادہ پایا جارہا ہے جبکہ ایک تیسری قسم ٹائپ سی ہے جو ٹائپ بی سے بنی اور سنگاپور کے راستے یورپ میں پھیل گئی۔ سائنسدانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس وائرس میں تسلسل سے تبدیلیاں آرہی ہیں جس سے وہ مخلف اقوام میں مدافعتی نظام کی مزاحمت کو گراتا چلا جارہا ہے۔

سائنسدانوں نے پہلی بار اس وائرس کی بنیاد جاننے کے لیے قدم زمانے کے انسانوں کی ہجرت کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو ٹریک کیا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا میں سیکڑوں کی تعداد میں کورونا وائرس پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے اب تک صرف سات ایسے ہیں جو انسانوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

ان سات کورونا وائرسز میں سے 4 کورونا وائرس انسانوں میں سردی اور زکام جیسی علامات ظاہر کرتے ہیں جب کہ بقیہ تین کورونا وائرس انسانوں کے لیے سنگین خطرات رکھتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں