The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہوگئی

لندن : برطانیہ میں مہلک ترین کرونا وائرس میں مبتلا ایک اور مریض زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ 319 افراد کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کا سلسلہ تاحال رک نہ سکا، نہ ہی اسے پھیلنے سے روکا جاسکا ہے، دنیا بھر کی طرح برطانیہ میں شہری اس وائرس کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 319 ہوچکی ہے جبکہ 5 مریض دم توڑ چکے ہیں۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ کوبرا کمیٹی اجلاس میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا اعتراف کیا اور وزیر اعظم کو سوشل ایونٹ اور اسکولز بند کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہلاکت خیز وائرس سے بچاؤ کےلیے اسکولز بند کرنے کی آن لائن پٹیشن دائر کی گئی ہے جس پر دو لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔

وزیر اعظم سائنسی اداروں سے مشاورت کے بعد فیصلے پر غور کریں گے۔ دوسری جانب کمیشن آف ہاؤس نے کہا ہے کہ ہلاکت خیز وائرس کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں رکے گی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث برطانیہ میں سینٹ پیٹرک ڈے پریڈ بھی منسوخ کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سینٹ پیٹرک ڈے17 مارچ کو برطانیہ بھرمیں منایا جاتا ہے، آئر لینڈ کا قومی دن ہونے کے باعث شہر شہر بریڈز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

یورپی حکام کی جانب سے کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کےلیے یورپ بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرکے 3 ہفتے کےلیے یورپین پارلیمنٹ میں تمام وزٹرز کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔

برطانیہ میں کرونا وائرس پنجے گاڑھنا شروع، ایمرجنسی نافذ ہونے کا امکان

مزید پڑھیں : کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے یورپ میں ہنگامی حالت نافذ

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بیلجیئم کو کورونا وائرس سے ہوٹلنگ کی صنعت میں 10 ملین یورو کا نقصان ہوچکا ہے، عالمی سطح پر کرونا وائرس سے ایوی ایشن انڈسٹری کو 30 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔

چین میں، جہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا، ہلاکتوں اور نئے مریضوں میں بتدریج کمی آتی جا رہی ہے، اب تک چین میں 3,136 سے زائد افراد کرونا وائرس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں جب کہ ایک لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 52,208 سے زائد ہوچکی ہے تاہم اب بھی 5,952 چینی شہریوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں