The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس کب اور کیوں پھیلتا ہے، اس سے کیسے بچا جائے؟

جان لیوا کرونا وائرس چین کے صوبے ہیوبے کے ووہان شہر سے پھیلتا ہوا دنیا بھر کے ممالک تک جاپہنچا ہے، جب سے ہی اس کے بارے میں جاننے کے لیے سائنسدان مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔

ایسے افراد جو نئے نوول کورونا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں، ان کی جانب سے کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد اولین 7 دن میں اسے دیگر صحت مند افراد میں منتقل کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا میں اب تک کورونا وائرس سے دو لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ 11ہزار سے زائد ہلاک ہوئے ہیں۔

اگرچہ اب بھی اس وائرس کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس بہت تیزی سے پیش رفت کرتا ہے۔ اس وقت کرونا وائرس کے انسانوں پر حملے جاری ہیں جس سے دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

کرونا وائرس 1960ء میں پہلی بار متعارف ہوا۔ اب تک 13 اقسام دریافت ہوچکی ہیں جن میں سے 7 اقسام ایسی ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔ کرونا وائرس دودھ دینے والے جانوروں اور پرندوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

یہ انفلوائزا کی ایک قسم ہے جو ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں منتقل ہوتا ہے جس سے وائرس سے متاثر ہونے والے فرد کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری ہوتی ہے۔

بنڈسوئیر انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بائیولوجی، Klinikum München-Schwabing، CharitéUniversitätsmedizin Berlin اور یونیورسٹی ہاسپٹل ایل ایم یو میونخ کی یہ تحقیق ابھی کسی جریدے میں شائع نہیں ہوئی، یعنی دیگر سائنسدانوں نے اب تک اس کے معیار اور مستند ہونے کا تجزیہ نہیں کیا۔

تحقیق کے نتائج سے ممکنہ عندیہ ملتا ہے کہ آخر کیوں یہ وائرس بہت آسانی سے پھیل رہا ہے، کیونکہ بیشتر افراد اس وقت اسے پھیلا رہے ہوتے ہیں، جب اس کی علامات معمولی اور نزلہ زکام جیسی ہوتی ہیں۔

تاہم محققین نے اس کو آن لائن شائع کیا ہے جس میں دیکھا گیا ہے کہ یہ وائرس مختلف مراحل میں کس طرح اور کن ذرائع سے پھیلتا ہے۔

محققین نے کووڈ 19 کے شکار 9 افراد کے متعدد نمونوں کا تجزیہ کیا جن کا علاج میونخ کے ایک ہسپتال میں ہورہا تھا اور ان سب میں اس کی شدت معتدل تھی۔ یہ سب مریض جوان یا درمیانی عمر کے تھے اور کسی اور مرض کے شکار نہیں تھے۔

محققین نے ان کے تھوک ، خون، پیشاب، بلغم اور فضلے کے نمونے انفیکشن کے مختلف مراحل میں اکٹھے کیے اور پھر ان کا تجزیہ کیا۔ مریضوں کے حلق سے لیے گئے نمونوں سے انکشاف ہوا کہ یہ وائرس جب کسی فرد کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ہفتے میں سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، جبکہ خون اور پیشاب کے نمونوں میں وائرس کے کسی قسم کے آثار دریافت نہیں ہوئے تاہم فضلے میں وائرل این اے موجود تھا۔

ایسے افراد جو نئے نوول کورونا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں، ان کی جانب سے کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد اولین7دن میں اسے دیگر صحت مند افراد میں منتقل کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

کرونا کی علامات 2 سے 14دنوں کے درمیان سامنے آنے لگتی ہیں جن میں نزلہ، زکام، کھانسی ، سر درد اور تیز بخار شامل ہیں ۔اس سےنمونیہ اور پھیپھڑوں میں سوجن پیدا ہوتی ہے اور سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صابن سے بار بار ہاتھ اچھی طرح دھوتے رہیں، وضو کرتے رہنے سے یہ مرض آپ کے قریب بھی نہیں آئے گا۔ کھانا پکانے سے قبل اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں۔ کھانا مکمل طور پر پکائیں ک کچا رہ جانے کا گمان نہ ہو۔ پانی کو ابال کر زیادہ سے زیادہ پیئں۔ سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہیں۔

پالتو جانوروں سے دور رہیں۔ کسی کی بھی آنکھ ، چہرے اور منہ کو مت چھوئیں۔ وائرس میں مبتلا افراد اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے گریز کریں۔ وائرس میں مبتلا افراد کی استعمال شدہ چیزوں کو استعمال سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ فلو وائرس میں مبتلا افراد رومال اور ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں