The news is by your side.

Advertisement

بجلی اور انٹرنیٹ سے محروم دیہات اور کرونا وائرس!

تحریر: سائرہ فاروق

عالمی وبا سے متعلق معلومات کا حصول شہروں میں رہنے والوں کے لیے آسان ہے اور اسی طرح دور دراز علاقوں میں بسنے والوں کی نسبت علاج یا اسپتال تک رسائی بھی۔

ٹیلی ویژن اور اخبار کی صورت میں نشر و اشاعت کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی دی جارہی ہے مگر دور دراز کے قصبوں اور دیہات کے باسیوں کے لیے بَروقت اور مستند معلومات کا حصول مشکل ہی نہیں کافی حد تک ناممکن بھی ہے، کیوں کہ بہت سے دیہات ایسے بھی ہیں جہاں رہنے والوں کو انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میسر ہے اور نہ وہاں بجلی کی سہولت ہے۔ اسی لیے ٹی وی جیسی عام مشین سے استفادہ کرنا بھی آسان نہیں۔

ایسے میں کسی پڑھے لکھے اور ذمہ دار شہری کا گاؤں دیہات میں جا کر معلومات اور آگاہی دینا بے حد ضروری ہے، لیکن مصیبت یہ ہے کہ سوشل ڈسٹینسنگ یا سیلف آئسولیشن جیسی اصطلاحات کو دیہاتیوں کے سامنے رکھنا بھی ایک اور الجھن ہے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ ہاتھ نہ ملانا، گلے نہ ملنا، گھر میں خود کو محدود کرنا وہ احتیاطی تدابیر ہیں جو ان کے لیے نہ صرف عجیب و غریب ہیں بلکہ من گھڑت اور اکثر دیہاتیوں کے لیے اغیار کی سازش ہیں۔

ایسے موقع پر لوگوں میں مذہب نہیں بلکہ شدت پسندی زیادہ سَر اٹھاتی ہے، اس لیے ایسی بیماریوں کا علاج جھاڑ پھونک سے کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ مذہبی احکامات اور تعلیمات سے ناواقفیت اور محدود علم کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ مصافحہ نہ کرنے کو برا تصور کررہے ہیں۔ اسی طرح ان کا سوال ہے کہ گلے کیوں نہ ملیں؟ حسنِ معاشرت کا مظاہرہ کیوں نہ کریں؟

انہیں یہ سمجھانا مشکل ہے کہ اسی دین نے بتایا ہے کہ مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے، لہٰذا پہلے اپنی جان کی حفاظت ضروری ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر کے نہایت قابلِ احترام اور جید علما اور مفتیانِ کرام کے وعظ اور ان کی تلقین بھی ہم تک پہنچ چکی ہے۔

دوسرا شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کی آمد پر پابندی کا سوچا جا رہا ہے، اور یہ سلسلہ ویسے ہی کم ہوچکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ان علاقوں میں لوگوں کے سبزی فروٹ اور دوسرے کاروبار ہیں اور جب یہ دکان دار خریداری کے لیے شہر آتے ہیں تو کیا واپسی پر اس بات کا امکان نہیں کہ وہ وائرس کا شکار ہوکر اپنے علاقوں میں لوٹیں اور جب اپنے گھروں، دکانوں کا رخ کریں تو کئی لوگوں اس وائرس سے متاثر کریں۔ سو، صرف سیاحوں پر پابندی سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہو گا کہ گاؤں میں سرکاری دفاتر، کارخانے وغیرہ نہیں کہ وہاں کے اکثر لوگ ملازمت پیشہ ہوں اور ماہ وار تنخواہ پاتے ہوں، یہاں زیادہ تر لوگ دیہاڑی دار اور مزدور ہیں جن کی آمدنی اور وسائل بہت کم ہیں۔ ان کے پاس رقم کا جمع جوڑ بھی نہیں کہ ماہ دو ماہ کام چلا لیں۔

ایسی صورت میں اگر یہ وائرس ان علاقوں میں پھیلتا ہے تو اس کا ٹیسٹ کروانا بھی غریب کی پہنچ سے باہر ہے اور وہ خود کو گھروں تک بھی محدود نہیں رکھ سکتے۔ یہاں غربت اتنی زیادہ ہے کہ لوگ دو وقت کی روٹی کا انتظام کرلیں یا شہر جاکر علاج معالجہ کروائیں، لہذا وہ ایسی خبروں پر یقین نہیں کرتے اور احتیاطی تدابیر کو اہمیت نہیں‌ دے رہے۔

ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے آگاہی دینے کا سب سے بڑا پلیٹ فارم مسجد ہے جہاں کے امام کو بہت عزت اور احترام حاصل ہوتا ہے اور لوگ ان کی بات کو اہمیت دیں گے۔

حکومت اور انتظامیہ ان سے رابطہ کرے اور امام اور مقامی علما خاص طور پر لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کریں تو فائدہ ہوسکتا ہے۔

دوسرا ذریعہ ریڈیو ہے جو گاؤں میں ہر خاص و عام کے پاس ہوتا ہے اور ریڈیو نشریات بہت شوق سے سنی جاتی ہیں۔ ریڈیو چینلوں پر کورونا وائرس سے متعلق معلومات اور آگاہی دیتے ہوئے اس سے بچاؤ کے لیے ہدایات دی جاسکتی ہیں۔

اس طرح شہروں اور دور دراز کے سیاحتی علاقوں اور دیہات میں بھی زندگیوں کو محفوظ بناتے ہوئے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں