The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن: گھریلو تشدد کی نئی کہانیاں‌ رقم ہونے لگیں

کرونا کی وبا نے دنیا کو  لاک ڈاؤن پر مجبور کیا تو جہاں سماجی اور تجارتی سرگرمیاں بندش کی نذر  ہوئیں وہیں روزگار سمیت کئی مسائل نے سَر اٹھا لیا، جس کے بعد گھروں میں بدسلوکی تشدد کے واقعات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔

چین سے لے کر فرانس اور اٹلی سے اسپین تک، جرمنی سے برازیل اور دنیا بھر میں یہ وبا تلخیوں، رنجشوں کی وجہ بھی بنی ہے جس کے ساتھ ساتھ گھروں میں تشدد اور بدسلوکی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی خبر رساں ادارو ں کی رپورٹوں کے مطابق ہر عمر کی خواتین اور بچے بھی تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنے ہیں۔

اگر بات کریں چین کی جہاں سے یہ وبا دنیا بھر میں پھیلی تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ  صرف صوبے ہوبئی میں لاک ڈاؤن کے دوران تشدد کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہوا۔ 

برازیل میں گھریلو تشدد کے واقعات میں 40 سے 50 فی صد اضافہ ہوا اور ریوڈی جنیرو جیسے شہر میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ اسی طرح چلی میں لاک ڈاؤن کا پہلا ہفتہ تشدد کی شرح میں‌ 70 فی صد اضافے کے ساتھ تمام ہوا۔ جرائم کے حوالے سے بدنام میکسیکو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں‌ کہ وبا کے دنوں‌ میں‌ تشدد کے واقعات میں پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ کولمبیا میں لاک ڈاؤن کے دوران ہیلپ لائن پر تشدد اور بدسلوکی کی شکایات میں 130 فی صد اضافہ بتایا جاتا ہے۔

آسٹریلوی حکومت کے مطابق گھروں‌ میں تشدد اور بدسلوکی سے بچنے میں‌ مددگار مضامین اور مختلف طریقے انٹرنیٹ پر سرچ کیے جارہے ہیں اور اس میں‌ 75 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

جنوبی افریقا میں لاک ڈاؤن کا پہلا ہفتہ گھریلو تشدد کی 90 ہزار رپورٹوں کے ساتھ تمام ہوا جو متعلقہ ادارے کو موصول ہوئیں۔ اسپین میں جہاں کرونا کے متاثرین کی تعداد بڑھتی رہی، وہیں گھریلو تشدد اور قتل کی رپورٹیں بھی درج ہوئیں۔ فرانس میں لاک ڈاؤن کے دوران مار پیٹ اور تشدد کے مختلف واقعات میں 33 فی صد اضافہ ہوا اور 18 سے 75 تک کی عورتیں اس کا نشانہ بنیں۔ برطانیہ میں گھریلو تشدد میں‌ 65 فی صد اضافہ ہوا جب کہ ارجنٹینا میں بدسلوکی اور تشدد کے حوالے سے اعداد و شمار میں‌ 67 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

 برطانوی اخبار کے مطابق لاطینی امریکا کے بڑے ممالک میکسیکو اور برازیل میں عورتوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں