The news is by your side.

Advertisement

مہلک وائرس سانس کی نالی کے ذریعے کیسے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں؟

کرونا وائرس سے بچنے اور اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور دنیا بھر میں حکومتی سطح پر آگاہی مہم چلائی جارہی ہے اور خاص طور پر چھینکنے، کھانسنے کے دوران احتیاطی تدابیر اور میل جول کے وقت مناسب فاصلہ رکھنے کی ہدایات کی جارہی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ کرونا وائرس ہماری ناک اور منہ کے ذریعے جسم میں منتقل ہوسکتا ہے۔

ناک یا منہ کے ذریعے تازہ ہوا یا آکسیجن کی ضرورت پوری کرنے کے دوران فضا میں موجود جراثیم بھی جسم میں پہنچ سکتے ہیں جو کسی وائرس سے متاثرہ فرد کے چھینکنے، کھانسنے، حلق سے رطوبت کے اخراج کی وجہ سے ہماری فضا میں شامل ہوجاتے ہیں۔

اب سانس لینے اور اس دوران وائرس کی جسم میں منتقلی کو یوں سمجھیے کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو ناک اور اکثر منہ کے ذریعے تازہ ہوا ہمارے نرخرے سے ہوتی ہوئی مخصوص نالی جسے ٹریکیا کہتے ہیں، میں جاتی ہے اور وہاں سے نالیوں کے قدرتی نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔

پھیپھڑوں تک پہنچنے کے بعد جسم میں موجود تھیلیوں کے قدرتی نظام سے گزرنے والی اس ہوا سے آکسیجن خون میں شامل ہوجاتی ہے اور یوں جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن مل جاتی ہے۔ جسم میں ہوا داخل ہونے اور سانس باہر چھوڑنے کے عمل کے دوران ہی ہم خون میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھی خارج کردیتے ہیں۔ لیکن اسی سانس لینے کے عمل میں فضا میں موجود جراثیم بھی ہمارے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ ان کی کارکردگی کو متاثر کرنے کے ساتھ انھیں ناکارہ بنا سکتے ہیں۔

کرونا ہی نہیں مختلف دوسرے مہلک وائرس بھی اسی طرح ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں