The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس نے لارڈز کی صدیوں پرانی تاریخ تبدیل کردی

انگلینڈ: کرونا وائرس نے لارڈز کرکٹ اسٹیڈیم کی233 سالہ پرانی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا، یہ پہلا موقع ہے گرمیوں‌ کے موسم میں‌ کوئی میچ نہیں‌ ہوگا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کرکٹ کے گھر لارڈز کی 233 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس سیزن میں گراونڈ پر کسی بھی قسم کی کرکٹ نہیں کھیلی جا رہی، اس سے قبل جنگ کے دوران بھی لارڈز میں کرکٹ نہیں رُکی تھی مگر کرونا وائرس نے لارڈز کی صدیوں پرانی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔

لارڈز انتظامیہ نے اسٹیڈیم ویران ہونے سے 30 ملین پاؤنڈز کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ ایم سی سی کلب کو اُمید ہے کہ وہ لائف ٹائم ممبر شپ فروخت کر کے پندرہ ملین پاؤنڈز کا نقصان برابر کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کو 380 ملین ڈالر نقصان کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کلب نے 300 نئی لائف ٹائم ممبر شپ دینے کا اعلان کیا تھا جس سے 15 ملین جمع ہونے کی اُمید ظاہر کی گئی ہے تاکہ گزشتہ برس شروع کیے جانے والے کمپٹن ایڈریچ اسٹینڈ کی تعمیر مکمل کی جا سکے جس پر 52 ملین پاؤنڈز لاگت آئے گی۔

لارڈز میں رواں برس انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین دو ون ڈے میچز، دی ہنڈریڈ سیزن کے میچز اور فائنل جبکہ ٹی ٹونٹی بلاسٹ کے میچز ہونے تھے جن کے ملتوی ہونے سے کرکٹ اور انتظامیہ کو بہت بڑا نقصان ہوا۔

ایم سی سی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ ہم گراؤنڈ کو بند دروازوں کے پیچھے کھیلے جانے والے میچز کے لیے نہیں پیش کریں گے کیونکہ بند دروازوں کے پیچھے کھلاڑیوں کو کھیلنے کے مواقع دینے کی تجویز تو اچھی ہے مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں