The news is by your side.

Advertisement

کروناوائرس کی وجہ بننے والے جانوروں کی فروخت تاحال جاری

بیجنگ: کروناوائرس کے خطرے کے پیش نظر چینی حکومت کی جانب احکامات اور پابندیوں کی جانور فروشوں نے دھجیاں اڑا ڈیں، بازاروں میں تاحال جنگلی جانور فروخت کیے جارہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کروناوائرس کے مزید پھیلاؤ سے بچنے کے لیے چینی حکومت نے ملک میں جنگی جانوروں کی فروخت پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ حالیہ دنوں ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ چمگادڑ، خنزیر اور دیگر جنگلی جانوروں سے کروناوائرس کا آغاز ہوسکتا ہے۔

چین میں لوگ چوہے، چمگاڈر، لال بیگ اور سانپ سمیت دیگر جنگلی جانوروں کو شوق سے کھاتے ہیں، تاہم کروناوائرس کے پیش نظر چینی حکومت نے ایسے تمام مارکیٹوں پر پابندی عائد کی تھی جو اس طرح کے جانور فروخت کررہے ہیں۔

حکومت کی پابندیوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور مارکیٹوں میں تاحال جنگلی جانور فروخت کیے جارہے ہیں۔ غیرملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چینی صوبے ہوبائی گوانگڈونگ میں دھڑلے سے زندہ جنگلی جانور فروخت کیے جارہے ہیں۔

’کرونا وائرس چمگادڑ کی وجہ سے پھیلتا ہے‘: انکشاف

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایکو ہیلتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر پیٹرڈسزاک نے انکشاف کیا تھا کہ چمگادڑ کی وجہ سے سالانہ ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ بھی یہی ممالیہ ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرپیٹر کا کہنا تھا کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا، اور اس بات کو وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں میں وائرس پھیلنے کی بڑی وجہ چمگادڑ ہی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں