The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کا پہلا کیس کب سامنے آیا تھا؟

کرونا وائرس کا آغاز سنہ 2019 کے اختتام پرا ہوا تھا تاہم یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا دنیا کا پہلا شخص کون تھا اور کہاں سے تعلق رکھتا تھا۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق سائنسدانوں نے سائنسی طریقوں کی مدد سے کووڈ 19 کے پہلے کیس کے دورانیے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس تخمینے کے مطابق دنیا میں کووڈ کا پہلا کیس چین میں اوائل اکتوبر سے نومبر 2019 کے وسط میں سامنے آیا ہوگا۔

درحقیقت ان کا اندازہ ہے کہ دنیا میں پہلا فرد ممکنہ طور پر17 نومبر 2019 کو کووڈ 19 سے متاثر ہوا ہوگا۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ کینٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج میں کرونا وائرس کی وبا کے ماخذ کے حوالے سے بات کی گئی۔

دنیا میں کرونا وائرس کا پہلا باضابطہ کیس دسمبر 2019 کے شروع میں شناخت ہوا تھا، تاہم ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس سے پہلے بھی اس بیماری کا شکار ہورہے تھے۔

وبا کے آغاز کے دورانیے کو سامنے لانے کے لیے ماہرین نے ریاضیاتی ماڈل کو استعمال کیا جو اس سے پہلے مختلف حیاتیاتی اقسام کے معدوم ہونے کی مدت کا تعین کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

تحقیق کے لیے ماڈل کو ریورس کر کے جاننے کی کوشش کی گئی کہ کب کووڈ انسانوں میں پھیلنا شروع ہوا اور اس کے لیے 203 ممالک کے ابتدائی کیسز کا ڈیٹا لیا گیا۔

اس تجزیے سے عندیہ ملا کہ کووڈ کا پہلا کیس 2019 میں اکتوبر کے آغاز سے نومبر کے وسط میں چین میں سامنے آیا ہوگا۔ تحقیق کے مطابق ممکنہ طور پر پہلا کیس 17 نومبر کو نمودار ہوا ہوگا اور یہ بیماری جنوری 2020 میں دنیا بھر میں پھیل گئی۔

نتائج سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ یہ وبا جلد نمودار ہوئی اور باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے سے قبل ہی تیزی سے پھیل گئی۔ تحقیق میں یہ بھی شناخت کی گئی کہ کب کووڈ 19 چین سے باہر اولین 5 ممالک میں پہنچا اور دیگر براعظموں تک پہنچا۔

مثال کے طور پر ان کا تخمینہ ہے کہ چین سے باہر پہلا کیس جاپان میں 2 جنوری 2020 کو سامنے آیا ہوگا جبکہ یورپ میں پہلا کیس 12 جنوری 2020 کو اسپین میں آیا ہوگا۔ شمالی امریکا میں پہلا کیس 16 جنوری 2020 میں سامنے آیا ہوگا۔

محققین کے مطابق ان کا یہ نیا طریقہ کار مستقبل میں دیگر وبائی امراض کے پھیلاؤ کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کے آغاز کے بارے میں معلومات سے اس کے مسلسل پھیلاؤ کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں