The news is by your side.

Advertisement

کیا چین سے خطرناک وائرس پاکستان منتقل ہوسکتا ہے؟

اسلام آباد: چین سے خطرناک وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کے تحت قومی ادارہ صحت نے الرٹ جاری کردیا، چین سے آنے والوں کا معائنہ ضروری ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چین سے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشے کے تحت قومی ادارہ صحت نے ہدایت نامہ جاری کردیا۔ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ چین میں کرونا وائرس کے سبب نمونیا کیس سامنے آرہے ہیں۔

ایڈوائرزی میں کہا گیا ہے کہ جاپان، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا میں کرونا وائرس پایا گیا ہے اور متاثرہ ممالک سے کرونا وائرس کے دیگر ممالک بھی منتقلی کا خدشہ ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق 15 روز میں چین سے آنے والے، کرونا کے مشتبہ مریض تصور ہوں گے۔ طبی عملہ کرونا کے مشتبہ مریض کے معائنے میں احتیاط برتے اور عملہ کرونا کے مشتبہ مریض کے معائنے کے وقت ناک اور منہ ڈھانپیں۔

ہدایت نامے میں کہا گیا کہ اسے جاری کرنے کا مقصد سرحد پر تعینات عملے اور متعلقہ حکام کو الرٹ کرنا ہے۔ متعلقہ حکام کرونا وائرس سے متعلق قبل از وقت انتظامات یقینی بنائیں۔

کرونا وائرس کیا ہے؟

ادارہ صحت کے مطابق این سی او وی 2019 کا تعلق کرونا وائرس فیملی سے ہے۔ چین میں کرونا وائرس مچھلی اور گوشت منڈی جانے والے افراد کو لاحق ہوا۔ وائرس متاثرہ جانور یا حاصل شدہ غذا سے انسان کو منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ انسان سے دوسرے کو باآسانی منتقل ہو سکتا ہے۔

ہدایت نامے میں کہا گیا کہ اس وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری ہونا ہے۔ کرونا وائرس انسان کے پھیپڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ دنیا میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں، اس سے بچاؤ کا واحد حل صرف بروقت احتیاطی تدابیر ہی ہے۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ کرونا وائرس کی علامات پر مریض کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے، کرونا کے مشتبہ مریض سے نمونے ماہر ڈاکٹر کی موجودگی میں لیے جائیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں