The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس بچوں پر کتنا اثر انداز ہوسکتا ہے؟

کراچی : نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹرجمال رضا کا کہنا ہے کہ بچوں میں کرونا وائرس پھیلنےکا خدشہ نہایت کم ہے، انہیں صرف احتیاط کروائیں اور نزلہ چھینکوں کی صورت میں اسکول کی چھٹی کروائیں۔

تفصیلات کے مطابق کوروناوائرس نےدنیابھرمیں خوف پھیلا رکھا ، سربراہ قومی ادارہ صحت اطفال ڈاکٹرجمال رضا نے کرونا وائرس کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کرونا کوئی قاتل وائرس نہیں ہے، دنیابھرمیں اب تک 83000ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ، زیادہ تراموات80سال سےزائدعمر افراد کی ہوئیں۔

ڈاکٹرجمال رضا کا کہنا تھا کہ 80 سال کے افراد پہلے سے مختلف مسائل کا شکار تھے جبکہ 25 سے 40 سال کی عمر کے افراد کی شرح اموات 0.2فیصد ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے زیادہ پریشان ہونےکی ضرورت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ  بچوں میں کرونا وائرس پھیلنےکا خدشہ نہایت کم ہے، بچوں میں اگرنزلہ زکام ہوتواحتیاط کروائیں، عام حالات میں بچے کو نزلہ ، بخار اور کھانسی ہے تو اسکول نہ بھیجیں ، تاہم صحتمند بچوں کواسکول بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔

ڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈہیلتھ کا کہنا تھا کہ  ماسک کےحوالےسے پریشان ہونےکی ضرورت نہیں ہے، ہر آدمی کو ماسک کی ضرورت نہیں ہے، ماسک کی ضرورت صرف مریض یارابطے میں رہنے والےکو ہے اور نزلےزکام کی صورت میں ماسک پہنیں۔

ڈاکٹرجمال رضا  نے کہا کہ کرونا سے محفوظ رہنے کے لئے متعدد مرتبہ ہاتھ دھوئیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

مزید پڑھیں : کرونا وائرس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟ احتیاطی تدابیر اور ہدایات

یاد رہے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس سےاموات کی شرح صرف دو فیصد ہے، اٹھانوےفیصد صحتیاب ہوجاتےہیں، کرونا وائرس سےمرنے والوں میں زیادہ تر تعدادعمر رسیدہ افراد کی ہے ، پہلے کسی موذی مرض میں مبتلا، دمے اور ساٹھ سال سےزائدعمرکےافراداس سے زیادہ متاثرہوئے ۔

چینی تحقیق کے مطابق خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ کرونا وائرس کاشکارہورہےہیں جبکہ بچے وائرس سے سب سےکم متاثرہوئے۔

خیال رہے کرونا وائرس ایک ڈروپلیٹ انفیکشن ہے، یعنی اس سے متاثرہ شخص اگر کھانسے یا چھینکے اور اسکے منہ سے نکلنے والے ذرے یا بوندیں آپ تک پہنچیں تو یہ وائرس آپ کو متاثر کرسکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے، تاہم احتیاط کے ذریعے اس سے بچا جا سکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں