The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کا پھیلاؤ: روس نے امریکا پر بڑا الزام عائد کردیا

ماسکو: امریکا اور روس کے درمیان اختلافات عروج پر ہیں، ایسے میں روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکا پر بڑا الزام عائد کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کے اسٹیٹ ڈوما (زیریں پارلیمنٹ ہاؤس) کے اسپیکر ویچیسلاو ولودین نے الزام عائد کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کرونا وائرس کا مرض کسی امریکی حیاتیاتی تجربہ گاہ سے نکلا ہو اور روسی حکومت کو اس وائرس کے امریکی لیب سے نکلنے کی ذمہ داری کا معاملہ عالمی فورم پراٹھانا چاہئے۔

اسپیکر ویچیسلاو ولودین نے یہ بات روسی فیڈریشن کے قانون سازوں کی کونسل کے اجلاس میں کہی، ان کا موقف تھا کہ چونکہ اس معاملے پر امریکا کے دوست ممالک خاموش ہیں اور امریکا نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے، اس بات کا نتیجہ منطقی طور پر نکالا جاسکتا ہے کہ ک رونا وائرس پھوٹنے اور نکلنے کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کی پوری دنیا میں قائم کی گئی لیبارٹریوں میں سے کسی ایک سے یہ وائرس چھوڑا گیا ہے۔ساتھ ہی اسپیکر ویچیسلاو ولودین نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی لیبارٹری میں جاری ان تمام حیاتیاتی تحقیق کو روکے جس سے ممکنہ طور پر کووڈ نائینٹین دنیا میں پھیلا۔

روسی اسپیکر نے اہم نقطہ بیان کرتے ہوئے کہا یہ وائرس ووہان میں پایا گیا تھا، لیکن یہ کس کی لیبارٹری سے نکلا ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک امریکی لیبارٹری ہے جس کی مالی امداد امریکہ کرتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کو مزید اس طرح کی تحقیق سے نہ روکا گیا تو دنیا کو آئندہ بھی اسی طرح کی دوسری وباؤں کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روسی ایوان زیریں کے اسپیکر نے مزید کہا کہ جارجیا اور مشرقی یورپ میں امریکی لیبارٹریز کام کررہی ہیں، جن کو اسے کنٹرول میں رکھنا چاہئے۔

روسی فیڈریشن کے قانون سازوں کی کونسل کے اجلاس میں انہوں نے نائب وزیر اعظم تاتیانہ گولیکووا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کو اٹھایا جانا چاہئے، اور اس ضمن میں جو قانونی طریقہ کار موجود ہے اس پر عملدرآمد کر کے امریکا کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں