The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس میں ہونے والی تبدیلیاں: ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لندن: ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں آنے والی نئی تبدیلیاں ویکسین کی اثر انگیزی کو کم کرسکتی ہیں، ماہرین کے مطابق وائرس کی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

حال ہی میں برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے علم ہوا کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام موجودہ ویکسینز اور مخصوص مونوکلونل اینٹی باڈیز طریقہ علاج کی افادیت کو کم کرسکتی ہیں اور ان سے کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد میں دوبارہ بیماری کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج نووا واکس ویکسین کے ٹرائل کے نتائج پر مبنی ہیں۔

28 جنوری کو کمپنی نے اپنی ویکسین کے ٹرائل کے نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ ویکسین برطانیہ میں ٹرائل کے دوران لگ بھگ 90 فیصد تک مؤثر رہی تھی مگر جنوبی افریقہ میں یہ افادیت محض 49.4 فیصد رہی تھی، جہاں بیشتر کیسز نئی قسم بی 1351 کے تھے۔

محققین نے بتایا کہ ہماری تحقیق اور نئے کلینکل ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ وائرس اس سمت کی جانب سفر کر رہا ہے جو اسے موجودہ ویکسینز اور طریقہ علاج سے بچنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وائرس کا پھیلاؤ تیز رفتاری سے جاری رہا اور اس میں مزید میوٹیشنز ہوئیں تو ہمیں مسلسل کرونا وائرس کی تبدیلیوں کو نظر میں رکھنا ہوگا، جیسا انفلوائنزا وائرس کے ساتھ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خیال کو دیکھتے ہوئے ضرورت ہے کہ جس حد تک جلد ممکن ہو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جائے، تاکہ وہ اپنے اندر مزید تبدیلیاں نہ لاسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں