The news is by your side.

Advertisement

کروناوائرس: عالمی ادارے کی بڑے خطرے کی نشاندہی

جینیوا: عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے باعث بھوک کا سامنا کرنے والوں کی تعداد دگنی ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ وبائی مرض کی وجہ سے لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا، کھانے کی قلت کا سامنا کرنے والوں کی تعداد 265 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے فوڈکرائسز سے متعلق چوتھی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عالمگیروبا بحران پیدا کرسکتی ہے۔ 2019 میں بھوک کا سامنا کرنے والے افراد تعداد 130 ملین سے بڑھ کر135ملین تک پہنچ گئی تھی۔

‘بدترین وقت ابھی آیا نہیں آنے والا ہے’عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو بڑے خطرے سے خبردار کر دیا

’کرونا وبا پھیلنے سے پہلے ہی خوراک کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوا تھا‘۔

قبل ازیں کرونا وائرس کے پیش نظرعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈرس کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ بدترین وقت ابھی آیا نہیں آنے والا ہے، کرونا ایک حقیقت ہے، جسے لوگ سمجھ نہیں رہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ساری دنیا کو متحدہ ہو کر اس وائرس سے لڑنا ہوگا، کوروناوائرس 100سال کے دوران پہلی بار آیا ہے، 1918 میں انفلوئنزہ سے 10کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے، اگر لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو عجلت میں ہٹا دیا گیا تو اس سے وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں