The news is by your side.

Advertisement

وہ وبائی امراض جو کروڑوں‌ انسانوں‌ کی موت کا سبب بنے

صدیوں پہلے جب آج کی طرح انسان نے سائنس اور طب کے میدان میں ترقی نہیں‌ کی تھی، تب کسی بیماری کے وبائی صورت اختیار کرجانے کا ایک ہی مطلب ہوسکتا تھا۔۔۔۔ ہزاروں نہیں، لاکھوں انسانوں کی موت!

ایک زمانے میں ‘‘طاعون’’ اور ‘‘کوڑھ’’ کو آسمان کا قہر اور خدا کا عذاب تصور کیا گیا۔ یہ وہ بیماریاں تھیں جس کے شکار افراد بدترین جسمانی تکلیف اور اذیت ناک صورت حال کا سامنا کرتے اور گویا سسک سسک کر موت کے منہ میں چلے جاتے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ متعدی بیماریوں کی طرح جب انسان شدید بخار، قے، ناقابلِ برداشت سَر اور کمر کا درد، جسم پر سوجن کا شکار ہوئے تو اسے طاعون کا نام دے دیا اور یہ جانا کہ اس جسمانی حالت اور طبی کیفیت کی وجہ چوہے ہیں۔

طاعون نے وبائی شکل اختیار کی تو دیکھا گیا کہ اکثر لوگوں کی گردن، رانوں اور بغلوں میں پھوڑے نمودار ہو گئے اور ان کی زندگی اذیت ناک ہوتی چلی گئی۔ صحت مند لوگ اور ان کے اپنے تک ان سے خوف کھانے لگے اور دوری اختیار کر لی۔

تیرھویں اور سولھویں صدی میں طاعون کی وبا سے یورپ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔
کہتے ہیں طاعون نے سب سے پہلے تیرھویں صدی میں یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا اور متعدد بار اس کی وجہ سے یورپ بھر میں کروڑوں اموات واقع ہوئیں۔ 1666 میں برطانیہ میں طاعون کی وبا پھیلنے سے ایک لاکھ سے زائد انسان موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

طاعون اور جذام وہ امراض تھے کہ جب کوئی اس کا شکار ہوجاتا اور اس کی زندگی نہایت اذیت ناک ہو جاتی تو اپنے ہی اس کی موت کی دعا کرنے لگتے تاکہ وہ جسمانی تکلیف سے نجات پاسکے۔

ہم یہاں ان امراض کا ذکر کررہے ہیں جو وبا کی صورت پھیلے اور دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا اور ہلاکتوں‌ کی وجہ ہیں۔

ہیضہ جب ایک وبا کی صورت پھیلا
ہیضہ 19 ویں صدی کے آغاز سے قبل کی وہ وبا ہے جسے سب سے خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بننے والا یہ مرض انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں امریکا میں لوگوں کے لیے خطرہ بنا اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں پھیلا۔

اسپینش فلو کو بدترین وبا مانا جاتا ہے
جنگِ عظیم اوّل کے دوران اس وبا نے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا کے ہر تیسرے شخص کو متاثر کیا، یہی وجہ ہے کہ اسے بدترین عالمی وبا بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری انفلوئنزا کی ایک شکل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسپینش فلو کی وجہ سے پانچ کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔ 1918 اور 1920 کے دوران دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس مرض نے لگ بھگ 50 لاکھ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ یہ وبا امریکا، یورپ، ایشیا اور افریقا تک پھیل گئی تھی۔

چیچک
تاریخ بتاتی ہے کہ چیچک کا مرض اٹھارھویں صدی میں پہلی بار دنیا کے سامنے آیا تھا، لیکن 1950 میں یہ ایک خوف ناک وبا کی صورت پھیلا اور صرف دو دہائیوں کے دوران تین کروڑ سے زائد انسانوں کو متاثر کیا۔ طبی سائنس میں ترقی اور علاج معالجے کی سہولیات کے باوجود 1970 تک سالانہ 50 لاکھ افراد اس مرض سے متاثر ہورہے تھے۔ تاہم اس کے بعد اسے وبا کی صورت پھیلتا نہیں دیکھا گیا۔

خسرہ اب بھی دنیا کے لیے خطرہ ہے؟
خسرہ کی بیماری پھوٹی تو لوگ اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ اسے دنیا کے سامنے آتے ہی یعنی پہلے سال ہی ایک وبا مان لیا گیا۔ یہ 1920 کی بات ہے۔ تاہم ساٹھ کے عشرے میں اس بیماری کے پھیلاؤ میں کمی آگئی اور طبی ماہرین نے اس کے خلاف مؤثر ویکسین متعارف کروا دی۔

خسرہ سے آج بھی دنیا بھر میں انسان متاثر ہوتے ہیں اور ان میں اکثریت کم عمر بچوں کی ہے۔ ماہرین کے مطابق 2018 اس بیماری نے افریقا اور ایشیا میں ایک لاکھ 40 ہزار انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔

جذام کی بیماری
دنیا بھر میں 1950 تک جذام کی وجہ سے لاکھوں انسان متاثر ہوئے۔ 1990 کے بعد اس میں مسلسل کمی آتی گئی اور اب امید ہے کہ دنیا کو اس سے نجات مل جائے گی۔

پولیو وائرس جو جسمانی معذوری کا سبب ہے
پاکستان آج بھی پولیو سے آزاد نہیں ہو سکا ہے۔ 1950 کے بعد سامنے آنے والی اس بیماری سے دنیا میں لاکھوں افراد معذور ہوئے، لیکن طبی سائنس اور معالجین کی کوششوں سے دنیا کے بیش تر ممالک پولیو فری قرار دیے جاچکے ہیں۔ تاہم پاکستان میں اب بھی پولیو کے کیسز سامنے آرہے ہیں جس کے خلاف کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔

ٹی بی کا مرض
ٹی بی کو کئی سال تک وبائی مرض کے طور پر دیکھا جاتا رہا، مگر اس کا مکمل علاج سامنے آیا تو مرض کے پھیلنے کا خطرہ بھی کم ہوتا چلا گیا۔ تاہم دنیا اسے آج بھی ایک بڑی بیماری مانتی ہے اور اس کی علامات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 2018 وہ سال تھا جب اس مرض سے دنیا بھر میں لگ بھگ 13 لاکھ افراد موت کا شکار ہو گئے۔

اسی طرح سوائن فلو، ایشیا فلو کے علاوہ متعدد وائرس ایسے ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مہلک امراض کی فہرست الگ ہے جو کسی نہ کسی صورت میں دنیا بھر میں انسانوں کے لیے خطرہ ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں