The news is by your side.

Advertisement

انسانی لاش جیسی بو دینے والے پھول کو دیکھنے جوق در جوق لوگ چلے آئے

وارسا: پولینڈ کے دارالحکومت کے نباتاتی باغات میں انسانی لاش جیسی بو دینے والے نایاب پھول کو دیکھنے لوگ جوق در جوق چلے آئے۔

تفصیلات کے مطابق وارسا میں نباتاتی باغات میں اتوار کو ایک نایاب پھول (سماٹرا ٹائٹن اروم) جسے گل نعش بھی کہا جاتا ہے، چند گھنٹوں کے لیے کھِلا، اس منظر کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آئے اور کئی گھنٹے کھڑے اسے دیکھتے رہے۔

یہ ایک بڑی جسامت کا پھول ہے، جو کھلتا ہے تو سڑے گوشت کی طرح بو چھوڑتا ہے، جس کی وجہ سے گوشت خور، پولن لے جانے والے حشرات اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

اتوار کو کھلنے والا یہ پھول اگلے ہی دن 14 جون کو مرجھا گیا، کیوں کہ یہ بس چند گھنٹوں ہی کے لیے کھلتا ہے، یہ نایاب نظارہ اسی لیے لوگ بہت شوق سے دیکھتے ہیں، جو لوگ اس کی بو سے بچنا چاہتے تھے، ان کے لیے وارسا یونی ورسٹی کے باٹنیکل گارڈنز کی طرف سے لائیو ویڈیو دیکھنے کا بھی انتظام کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ’کارپس فلاور‘ کھلنے کی اطلاع پر سیکڑوں لوگ باٹنیکل گارڈنز چلے آئے تھے، انھوں نے 13 جون کی رات اور 14 جون کی صبح لمبی قطاروں میں پھول کو قریب سے دیکھنے اور تصاویر لینے کی مشقت اٹھائی۔

اس ’پھول پودے‘ کو امورفوفیلس ٹیٹینیم بھی کہا جاتا ہے، یہ دراصل دنیا کا سب سے بڑا پھولدار پودا ہے، جس میں شاخیں نہیں ہوتیں، اور صرف پھول ہی ہوتا ہے، اور یہ 3 میٹر (دس فٹ) تک اونچا ہو سکتا ہے، اس کے کھلنے کے بارے میں کوئی پیش گوئی بھی نہیں کی جا سکتی، یعنی یہ غیر متوقع طور پر اچانک کھلنے لگتا ہے۔

یہ پودا صرف جزیرہ سماٹرا کے بارانی جنگلات میں اگتا ہے، تاہم وہاں جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے اب اسے معدوم ہونے کا خطرہ لاحق ہے، جس کی وجہ سے اب نباتاتی باغات میں اس کی افزائش کی جاتی ہے۔ سماٹرا سے باہر پہلی بار یہ لندن کے رائل باٹنیکل گارڈنز میں 1889 میں کھلا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں