آثارِ قدیمہ کی بحالی میں سندھ حکومت کی کروڑوں کی کرپشن آشکار -
The news is by your side.

Advertisement

آثارِ قدیمہ کی بحالی میں سندھ حکومت کی کروڑوں کی کرپشن آشکار

کراچی: اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکونے سندھ کے کئی آثارِقدیمہ کی حالت مخدوش قراردے دی جبکہ سندھ حکومت کے محکمہ کلچر میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی بھی منظرِعام پرآگئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے محکمہ کلچرنے آثار قدیمہ کی بحالی کے کئی منصوبوں میں کروڑوں روپے کی خرد برد کی جبکہ 21 کروڑ روپے مالیت کے 10 منصوبے محض کاغذات میں ہی مکمل کئے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موہن جو داڑو کی بحالی میں دو کروڑ، فرئیرہال کی چھت کی تعمیرمیں 3 کروڑ، پکا قلعہ کی بحالی کے لئے 1 کروڑ 20 لاکھ، مکلی قبرستان کی بحالی میں 1 کروڑ، چٹوری قبرستان میں 1 کروڑ پچاس لاکھ اور نیشنل میوزیم پاکستان کراچی کے مرکزی دروازے کی تعمیر اور لفٹ کی تنصیب میں 50 لاکھ روپے کی کرپشن کی گئی۔

اس موقع پرہیریٹیج فاوٗنڈیشن کی چیئرمین یاسمین لغاری نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہویے کہا کہ پرانے افراد آثارِ قدیمہ کی حفاظت میں ناکام ہوچکے ہیں اور نئے لوگوں کو سامنے آنا چاہیئے۔

ان کا کہناتھا کہ ان کے ادارے نے بھی موہن جو داڑو کی بحالی میں کرپش کے سلسلے میں عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔

یاسمین لغاری نے انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت انتظامات نہ کئے گئے توہمارے قومی آثار برباد ہوجائیں گے اور ایک بار یہ ختم ہوگئے تو ہمارے پاس آئندہ نسلوں کودینے کےلئے کچھ نہیں بچے گا۔

دوسری جانب ڈائریکٹرکلچرقاسم علی قاسم نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے یونیسکو کی جانب سے ایسی کسی وارننگ کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے 130 مقامات کی بحالی کے لئے پیسے جاری کئے ہیں اور ان پر کام جاری ہے ۔

قاسم علی قاسم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاق نے کبھی سندھ کے آثارِقدیمہ پرتوجہ نہیں دی، اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے آثارقدیمہ کی بحالی کا کام شروع کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں