The news is by your side.

Advertisement

کسان مظاہرین سے یکجہتی، نوبیاہتا جوڑا بھی احتجاج میں پہنچ گیا

نئی دہلی: بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نوبیاہتا جوڑا بھی ٹریکٹر لے کر مظاہرے میں پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج جاری ہے، حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش بھی کی جس کو انہوں نے یکسر مسترد کردیا۔

کسان رہنماؤں نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ جب تک حکومت قوانین کو واپس نہیں لیتی اور پرانے قانون کو بحال کرنے کردیتی وہ سڑکوں پر بیٹھے رہیں گے۔

چند روز قبل بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر کسانوں نے نئی دہلی کی تاریخی عمارت لال قلعہ پر اپنی مذہبی پرچم لہرا دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا اور اب تک سیکڑوں کسان مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے کسان مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ اب اس معاملے پر دنیا بھر سے آوازیں بھی اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں، جس کی وجہ سے مودی حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت، 100 سے زائد کسان مظاہرین لاپتہ، اہل خانہ کو شدید خدشات

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق  نوبیاہتا جوڑا  رخصتی کے فوراً بعد عروسی جوڑے میں ہی کسان مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے میں پہنچا۔ دلہن دلہا اس موقع پر گاڑی سے اتر کر ٹریکٹر میں بیٹھے اور وہ مظاہرین سے ملاقات کے لیے گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست اترکھنڈ کے ضلع ادھم سنگھ ناگر سے تعلق رکھنے والے جوڑے نے اپنی شادی کے روز غازی پور میں بیٹھے کسانوں سے ملاقات کی اور اُن کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

دلہا سیوالجیت سنگھ اور دلہن سندیپ کور ہفتے کے روز باز پور میں ازدواجی بندھن میں بندھے، دونوں کی شادی کی تقریب انتہائی مختصر رکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آخر کار کسانوں کے احتجاج نے مودی کو منہ کھولنے پر مجبور کر دیا

سیوالجیت سنگھ نے بتایا کہ میری اہلیہ غازی پور کی سرحد پر احتجاج پر بیٹھے مظاہرین کے لیے درد رکھتی ہے، انہیں مظاہرین کی زیادہ فکر تھی اس لیے ہم نے اُن سے اظہار یکجہتی کا فیصلہ کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں