The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی بلند ترین چوٹی پر امریکی جوڑے کی شادی

نیپال : شادی زندگی بھر کیلئے یادگار لمحہ ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ اس کو مزید خاص بنانے کیلئے الگ انداز اپناتے ہیں ، ایسا ہی امریکا سے تعلق رکھنے والے جوڑا اپنی  شادی کے دن کو یادگار بنانے کیلئے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھ گیا ۔

امریکی شہر کیلفورنیا سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ جیمز سیسم اور ان کی اہلیہ 32 سالہ ایشلے شمائڈر نے اپنی شادی کچھ منفرد انداز میں کرنے کا پروگرام بنایا  اور اس کی ایک سال قبل ہی شادی کی تیاریاں شروع کرلی تھیں۔

امریکی جوڑے نے رواں برس مارچ کے آخر میں ماﺅنٹ ایورسٹ کیمپ میں شادی کی،شادی سے قبل تین ہفتے تک ہائیکنگ کرتے رہے تھے، اس موقع پر جوڑے نے امریکی روایتی عروسی ملبوسات پہننے کو ترجیح دیا، جیمز نے سوٹ جبکہ ایشلے نے سفید رنگ کا روایتی عروسی لباس زیب تن کیا۔

 

 

شادی کی اس یادگار تقریب کو ایڈونچر ویڈنگ فوٹوگرافر چارلیٹن چرچل نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

 

 

فوٹوگرافر نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بلاگ پوسٹ میں اس تقریب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ‘سفر کے آغاز میں بہت زیادہ برفباری ہورہی تھی، ان لمحات کو عکس بند کرتے ہوئے میری انگلیاں ٹھنڈ سے اکڑ گئی تھیں۔ جبکہ ایک موقع پر میرے کیمروں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ تاہم مشکلات کے بغیر کوئی کامیابی نہیں، بالاخر کڑی محنت کے بعد ہم ان مسحور کن لمحات کو عکس بند کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں نوبیاہتا دلہن ایشلے شمائڈر کا کہنا تھا کہ ہم دونوں نے بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ ہم عام روایتی جوڑوں کی طرح شادی کے بندھن میں نہیں بندھے گے بلکہ اس دن کو یادگار بنائیں گے۔

ایشلے نے کہا کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر شادی کی تقریب کرنا صرف ایک جذباتی فیصلہ نہیں تھا، ہم جانتے تھے کہ اس حسین تجربے سے گزرنے کیلئے ہمیں ہفتوں جسمانی اور ذہنی ٹوٹ پھوٹ سے گزرنا ہوگا کیونکہ یہ کام بالکل بھی آسان نہیں تھا۔

یاد رہے اس سے قبل 2005 میں نیپال کے ایک جوڑے نے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کی تھی اور یہ یہ پہلا موقع تھا جب ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ کر کسی نے شادی کی ہو۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں