بدھ, جون 17, 2026
اشتہار

پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں پسند کی شادی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالت نے لڑکی کے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مبینہ جعلی نکاح کے حوالے سے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔

لڑکی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ "مجھے اغوا نہیں کیا گیا، میں نے مرضی سے شادی کی ہے۔”

لڑکی کے والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر 12 سال ہے اور کم سن بچی کا نکاح قانونی طور پر ممکن نہیں۔

جسٹس حسن رضوی نے سماعت کے دوران کہا کہ لڑکی 12 سال کی کسی طرح نہیں لگتی اور اس نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان بھی دیا ہے۔

جسٹس حسن رضوی کا کہنا تھا کہ لڑکی کہہ رہی ہےوہ اغوانہیں ہوئی، خود کو بالغ بتا رہی ہے اور لڑکی کی شادی کو 6 ماہ ہو چکے ہیں

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں