جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

منشیات کے مجرموں کو معافی دینے پر عدالت برہم، جیل حکام طلب

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور (10 نومبر 2025): منشیات کے مجرموں کو عمر قید سزا میں معافی دینے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جیل حکام کو طلب کر لیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مجرموں محمد عمران اور جاوید اقبال کو عمر قید کی سزا میں معافیاں دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو 24 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔

محمد عمران اور جاوید اقبال کو 9، 9 کلو ہیروئن برآمد ہونے پر انسداد منشیات کی عدالت نے 2023 میں عمر قید کی سنائی تھی۔ سزا کیخلاف اپیل کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔

جج نے مجرموں کو عمر قید کی سزا میں معافیاں دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی اور حیرت ہے کہ مجرموں کو ڈھائی سال میں معافیوں کی مد میں 11 سال کی رعایت دے دی گئی۔ ڈھائی سال بعد 9 ،9 سال کی سزا معاف کر کے 13 سال کی سزا مکمل کر دی۔

عدالت نے کہا کہ یہاں چھوٹے چھوٹے جرائم میں لوگ کئی کئی سال تک جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔ چھوٹی سزا والوں کو ایسی معافیوں میں کوئی رعایت نہیں ملتی۔

وکیل اے این ایف نے عدالت سے کہا کہ جتنی زیادہ مقدار میں منشیات برآمد ہوئی، اسی اسپیڈ سے سزا میں معافی دے دی گئی۔ جیل افسران کو طلب کر کے پوچا جائے کہ انہوں نے معافیاں کیسے دیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ مجرمان سزا کے بعد جیل کی فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ ان مجرمان کی بریت نہیں چاہتی، صرف ان کی سزاؤں میں کمی کی استدعا ہے۔

عدالت نے وکیل صفائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سزا یافتہ مجرمان جیلوں میں مشقت کرتے ہیں لیکن سب کو معافیوں کی سہولت نہیں ملتی۔

بعد ازاں عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 24 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں