The news is by your side.

Advertisement

دعا زہرا کیس : ‘گرفتار نکاح خواں اور گواہ کے اہم انکشافات’

کراچی : دعا زہرا کیس میں گرفتار ملزمان نے مزید اہم انکشافات کیے ، وکیل مدعی نے بتایا کہ ملزمان کے ساتھ دیگر لوگ بھی اغوا میں ملوث ہیں ، ملزمان کی نشاندہی پرپولیس کارروائی کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی میں دعا زہرا کے اغوا کے مقدمے کی سماعت ہوئی ، جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے گرفتارمبینہ نکاح خواں اور گواہ کوپیش کیا۔

دوران سماعت تفتیشی افسر نے ملزمان کےمزیدجسمانی ریمانڈکی استدعا کی ، جس پر عدالت نے ملزمان کے ریمانڈ میں 4 جون تک توسیع کردی اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے کچھ مزید اہم انکشافات کیے ہیں، گرفتار ملزمان کے ساتھ دیگر لوگ بھی اغوا میں ملوث ہیں، ملزمان کی نشاندہی پرپولیس کارروائی کررہی ہے۔

والد دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ بچی کی بازیابی کی جلد پر امید ہیں، گرفتار ملزمان سے مزید انکشافات ہوئے ہیں ، ملزمان کیخلاف تھانہ الفلاح میں اغوا کا مقدمہ درج ہے۔

گذشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کو پیش نہ کرنے پر آئی جی سندھ کامران افضل کو کام کرنے سے روک دیا تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو آئی جی سندھ کا چارج کسی اہل افسرکودینے کا حکم دیا۔

اس سے قبل سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا تھا کہ دعا زہرا مانسہرہ کے قریب کسی مقام پر ہے، اے جی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس میں سے کوئی ان کی مدد کررہا ہے ، چھاپے کی اطلاع لیک ہوجاتی ہے ، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے تجویز دی کہ ڈی آئی جی ہزارہ کو طلب کرکے رپورٹ لیں۔

عدالت نے استتفسار کیا کیا دوسرے صوبے کی پولیس بھی ہمارے دائرہ کارمیں آتی ہے ، اب کہے رہے ہیں ڈی آئی جی ان کی مدد کررہا ہے ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ڈی آئی جی مدد کررہا ہے ، پولیس والے اور کچھ وکلاانکی مدد کررہے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا پولیس بازیاب نہیں کرائے گی توکون بچی کو بازیاب کرائے گا، وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کیا کہا ہے ، کون ہے اتنا طاقتور جو لڑکی کی بازیابی میں رکاوٹ بن رہا ہے ؟

Comments

یہ بھی پڑھیں