The news is by your side.

Advertisement

نور مقدم قتل کیس : مرکزی ملزم ظاہر جعفر پہلی بار عدالت میں بول پڑا

اسلام آباد : نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہرجعفرنےعدالت میں معافی مانگ لی، عدالت نے فردجرم کیلئے 14 اکتوبرکی تاریخ مقرر کردی۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج عطاربانی نے نور مقدم قتل کیس کی سماعت کی ، تفتیشی اور سرکاری وکیل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ظاہرجعفرسمیت 6 ملزمان کوعدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے وکلاء کی جانب سے جمع کرائی گئی 03 متفرق درخواستوں کی سماعت کی، گزشتہ روز ملزمان کے وکلاء نے یہ درخواستیں جمع کرائیں تاکہ تمام کیس ریکارڈ (ملٹی میڈیا شواہد) اور کم از کم 07 دن کا وقت طلب کیا جائے تاکہ فرد جرم کے طریقہ کار کی تیاری کی جا سکے۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عدالت نے مکمل دستاویزات فراہم نہیں کی ہیں، عدالت نے وکلاء کی جانب سے دائر تمام درخواستوں کو خارج کر دیا

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا عدالت کے سامنے بیان میں کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں،میں آگے آکر روسٹر پر بات کرنا چاہتا ہوں ، جس پر فاضل جج نے جواب دیا کہ ابھی آپکی ضرورت نہیں ہے ٹرائل میں اپکو بھی سنیں گے۔

فاضل جج نے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزمان کو واپس بخشی خانہ لے جائیں اور  ملزمان پر فردجرم کیلئے 14 اکتوبرکی تاریخ مقرر کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں