The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف کو سنے بغیر ضمانت منسوخی پر کوٸی حتمی حکم جاری کرنا مناسب نہیں، عدالت

لاہور : اسپیشل جج سینٹرل نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منسوخی کی درخواست تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کے وکیل کو سنے بغیر کوٸی حتمی حکم جاری کرنا مناسب نہیں۔ ۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت منسوخی کیلئے ایف آٸی اے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا۔

اسپیشل جج سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایف آٸی اے نے ضمانت منسوخی کی استدعا کی جبکہ عبوری ضمانت کیس 4 اپریل کو سماعت کے لیے فکس ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کے وکیل کو سنے بغیر کوٸی حتمی حکم جاری کرنا مناسب نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ آٸندہ سماعت کے لیے ملزم شہباز شریف کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔

اسپیشل جج سینٹرل نے کہا کہ آٸندہ سماعت پر عبوری ضمانت کےساتھ درخواست کی سماعت کی جاٸے گی۔

یاد رہے اسپیشل جج سینٹرل نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منسوخی کی درخواست پر 4 اپریل کے لیے نوٹس جاری کئے تھے۔

ایف آئی اے کے وکیل سکندر ذوالقرنین نے عدالت کو بتایا تھا کہ عبوری ضمانت میں ملزم کا عدالت کے سامنے پیش ہونا ضروری ہے ۔ شہباز شریف مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں کبھی وہ بیماری اور کبھی سیاسی مصروفیات کے نام پر پیش نہیں ہوتے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے 25 مارچ کو شہباز شریف کے پیش ہوئے بغیر عبوری ضمانت میں توسیع دی گئی جو قوانین کی خلاف ورزی ہے ، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ شہباز شریف غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں،عدالت شہباز شریف کی عبوری ضمانت منسوخ کرنے کا حکم جاری کرے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد شہباز کو چار اپریل کے لیے نوٹس جاری کر دئیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں