The news is by your side.

عدالت کا صحافی ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد: سارہ انعام قتل کیس میں سیشن عدالت نے صحافی ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ایاز امیر کو سارہ انعام قتل کیس کے مقدمے سے خارج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سیشن جج نے اپنے فیصلے میں کہ ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

قبل ازیں، اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں سینئر سول جج محمد عامر عزیز کے روبرو سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کیا، اور مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ رات کو ایاز امیر سے تفتیش کی ہے، ملزم شاہنواز کا ان سے رابطہ ہوا تھا، مقتولہ کا والد بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔

ایاز امیر کی جانب سے ایڈووکیٹ بشارت اللہ، نثار اصغر اور ملک زعفران نے وکالت نامے جمع کرا دیے، وکیل بشارت اللہ نے کہا یہ مقدمہ 23 ستمبر کو واقعے کے تین گھنٹے بعد درج ہوا، ایاز امیر کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، پولیس عدالت کو ابھی تک نہیں بتا سکی کہ کس ثبوت کے تحت ایاز امیر کو گرفتار کیا ہے۔

انھوں نے کہا انگلینڈ سے اگر بندہ آ رہا ہے تو وہ اس کیس کا گواہ نہیں، ایاز امیر اپنے گھر چکوال میں تھا اس نے پولیس کو اطلاع دی، 35 سال سے ایاز امیر کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں، ہماری استدعا ہے کہ سردست صفحہ مثل پر کوئی ثبوت نہیں ہے، ہمیں مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے۔

سرکاری وکیل نے کہا یہ ساری باتیں ٹرائل کی ہیں ریمانڈ اسٹیج پر دیکھا جائے کہ کیا ثبوت آئے ہیں، کل مقتولہ کے والدین آئے ہیں انھوں نے تدفین بھی کرنی ہے، ابھی تک ایاز امیر کا واٹس ایپ پر رابطہ ہوا وہ ثبوت ہے، اگر ہمیں خود بھی لگتا ہے اگر یہ بے گناہ ہے تو ہم ڈسچارج کر دیں گے، ایاز امیر کو نامزد بھی والدین نے کیا ہے۔

جج نے استفسار کیا کہ ایاز امیر کو کس نے نامزد کیا وہ کدھر ہیں، سرکاری وکیل نے بتایا کہ وہ مقتولہ کے چچا ہیں اور پاکستان ہی میں ہیں، جج نے پوچھا آپ کے پاس بادی النظر میں کیا ثبوت ہے، سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ مقتولہ کے قتل کے بعد ملزم کا اپنے والد سے رابطہ ہوا ہے، سرکاری وکیل نے بھی کہا کہ مقتولہ کے والدین کے پاس سارے ثبوت ہیں۔

وکیل بشارت اللہ نے کہا پولیس ایک بٹن دبائے تو سی ڈی آر نکل آتی ہے، والد کا بیٹے سے رابطہ وقوعہ کے بعد ہوا ہے، اگر باپ کا بیٹے سے رابطہ ہو جائے تو کیا دفعہ 109 لگتی ہے، پھر تو پولیس جس جس سے رابطہ ہوا ان کو ملزم بنا دے گی، پولیس خود کہہ رہی ہے بے گناہ ہوئے تو ڈسچارج کر دیں گے، لیکن اتنے دن گرفتار رکھا جگ ہسائی ہوئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ایاز امیر کے وکیل نے کہا ابھی پولیس ثبوت اکٹھی کر رہی ہے اور ایاز امیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، مقتولہ کے والدین کا کوئی بیان بھی نہیں ہے، پولیس بندہ گرفتار کر کے ثبوت ڈھونڈ رہی ہے، ہماری استدعا ہے ایاز امیر کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔

سرکاری وکیل نے کہا واٹس ایپ کال کا سی ڈی آر نہیں آتا، موبائل فون کو فرانزک کے لیے بھیج دیا ہے، وکیل بشارت اللہ نے کہا جب ثبوت آ جائیں تو پھر وارنٹ لے کرآ جائیں اور گرفتار کر لیں، سرکاری وکیل نے کہا ہم نے ثبوت بنانے ہوتے تو بنا دیتے، ایمان داری سے کام کر رہے ہیں، وکیل بشارت نے کہا آپ کی ایمان داری یہ ہے کہ میرے مؤکل 4 دن سے ہتھکڑی میں کھڑے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں