کراچی:عدالت نے میر رضا کی قبر کشائی کا حکم دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں میر رضا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ نے میر رضا کی قبر کشائی کے لیے والد کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر قبر کشائی کرائی جائے، جبکہ عدالتی حکم پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سماعت کے دوران میر رضا کے والد نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی تفتیش اور پولیس کی کارکردگی ناقص رہی، اس لیے حقیقت سامنے لانے کے لیے دوبارہ پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔
سرکاری وکیل نے قبر کشائی کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا، جبکہ عدالت نے ریمارکس دیے کہ "سرکار بھی آپ کے ساتھ ہے۔”
واضح رہے کہ میر رضا کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مختلف سوالات اٹھائے گئے تھے، جس کے بعد اہلخانہ نے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
گذشہ روز میر رضا کے والد نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئےدعویٰ کیا تھا کہ میرے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ انہیں قتل کیا گیا۔
Mir Raza Ali case- All Updates
میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹے کی لاش ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کے حوالے کر دی گئی، جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ ان کے اکلوتے بیٹے کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، خودکشی کا تاثر درست نہیں۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بھی کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب تصاویر میں تضاد موجود ہے، جسم کے مختلف حصوں پر سوجن اور سیاہ نشانات دکھائی دیتے ہیں، جبکہ گولی لگنے کی سمت کے حوالے سے بھی تضادات سامنے آئے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کا بھی کہنا تھا کہ پولیس سرجن نے تصاویر کی بنیاد پر رائے دی، لاش کا معائنہ نہیں کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میڈیکل لیگل آفیسر تیار کرتا ہے اور پولیس نے اسی رپورٹ کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کی تاہم اگر اہلخانہ چاہیں تو دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی بھی کی جا سکتی ہے۔
ادھر فرانزک ماہر عامر حسن نے کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی اہم پہلوؤں کا احاطہ نہیں کیا گیا، اس لیے تمام شواہد کا ازسرنو طبی اور فرانزک جائزہ لیا جانا چاہیے۔


