The news is by your side.

شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی ہے اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

اس سے قبل شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پولیس نے پی ٹی آئی رہنما کے مزید 7 روز کا جسمانی ریمانڈ لینے کی استدعا کی تھی۔

پولیس اور میڈیکل رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کیا اسپیشل اسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ ہر روز پولیس ملزم سے تفتیش کر رہی ہے، تفتیش مکمل نہیں ہوئی، ابھی ہمیں کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں، مرکزی موبائل جو شہباز گل استعمال کرتا تھا اسکی برآمدگی مقصود ہے، اس لیے اس کی حراست ضروری ہے اور ملزم کا لاہور سے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرانا ہے۔

جج نے استفسار کیا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کی پرانے ریمانڈ میں استدعا نہیں کی تھی؟

پراسیکیوٹر نے کہا کہ پچھلے ریمانڈ میں استدعا نہیں تھی، جو ریمانڈ معطل ہوا اس میں تھی، شہباز گل کا میڈیکل کرا لیا ہے، ابھی تک پولی گرافک ٹیسٹ کرانے کاوقت بھی نہیں مل سکا، پولی گرافک ٹیسٹ نہ ہونےکی وجوہات بھی پولیس ڈائری میں لکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ مناسب پیش رفت ہوئی ہے،  2 دنوں کا جو ریمانڈ ملا اسکی پراگریس موجود ہے ایک مقدمہ بھی درج ہوا 48 گھنٹے کے ریمانڈ میں  کمرے کی تلاشی لی، فونز، 4  یوایس بیز برآمد ہوئیں، مگر ابھی کچھ ریکوری بقایا ہے، ابھی واردات میں استعمال موبائل فون برآمد نہیں کیا جاسکا۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت سے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ منظورکرنے کی استدعا کی۔

جج نے استفسار کیا میڈم کی عدالت نے 48 گھنٹے دیے اور میں نے بھی 48 گھنٹے دیے، کیا میڈم نے میرے لیے راستہ چھوڑا کہ مزید جسمانی ریمانڈ دوں؟

اس پر پراسیکیوٹر نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ انہوں نے کم سے کم وقت دیا لیکن گیٹ تو بند  نہیں کیا، عدالت  نے یہ تو نہیں کہا کہ پولیس کو آخری موقع دیا جاتا ہے تفتیش مکمل کرے، آپ مزید ریمانڈ دے سکتے ہیں، جج نے آپ کے کوئی ہاتھ نہیں باندھے۔

عدالت میں شہباز گل کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے میڈیا کے تعاون سے چھاپہ مارا، پولیس نے ریمانڈ کی استدعا کیلئے ایک ہی بات کی کہ موبائل برآمد کرنا ہے، چار موبائل فون پولیس برآمد کرچکی اب کون سے موبائل کی ضرورت ہے۔

فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ لینڈ لائن نمبر پر بیپر ہوا ، اسے قبضے میں نہیں لیا جا سکتا،16دن ہوچکے پولیس نے سوائے تشدد کے کچھ بھی نہیں کیا، ان کو یہ بھی نہیں معلوم اسلام آبادمیں پولی گرافک ٹیسٹ سہولت ہے یا نہیں، تشدد کیا اور ٹارچر کو چھپایا یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے جوڈیشل انکوائری کا آرڈر کیا یہ چھوٹی بات نہیں، اس عدالتی آرڈر کو آپ نے دیکھنا ہے،  پچھلے جیل سپرنٹنڈنٹ کیخلاف انکوائری شروع ہو چکی ہے۔ صحافی، وکیل سمیت کوئی شہری پولیس کے ہتھے چڑھتا ہے اس پر تشدد کیا جاتا ہے، شہباز گل پروفیسر ہے 4 دن میں پولیس نے صفر تفتیش کی۔

ملزم کے وکیل علی بحاری نے مزید کہا کہ مقدمے کے اخراج کی درخواست پرعدالت نے نوٹس جاری کیا ہوا ہے، شہباز گل پر اس سے پہلے کوئی کیس نہیں ہے۔

اس موقع پر پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دلائل مکمل کرلیں، عدالت نے تشدد کی انکوائری کا حکم دینا ہے، انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ جمع کرانی ہے۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز گل نے تشدد کا الزام لگایا اور میڈیا پر آیا ہے، اس موقع پر گرفتار پی ٹی آئی رہنما کے وکلا اور پراسیکیوٹر کے درمیان نوک جھونک ہوئی اور پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر ملزم کے وکلا کا یہ رویہ رہا تو دلائل نہیں دے سکوں گا۔ جس پر جج نے کہا کہ آپ خاموش ہو جائیں میں آپکوبھی 2 منٹ مزید دے دوں گا۔

بعد ازاں دلائل مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے شہباز گل کے وکلا کو ان سے ملنے کی اجازت دی اور مزید ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں