The news is by your side.

بغاوت کا مقدمہ : شہباز گل کی درخواستِ ضمانت مسترد

اسلام آباد : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی سیشن عدالت نے رہنما تحریک انصاف شہباز گل کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔

ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا ، جس میں عدالت نے شہبازگل کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔

خیال رہے ملزم شہباز گل پر اداروں کو بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد ہے اور ان کیخلاف تھانہ کوہسار پولیس نے مجسٹریٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

گذشتہ روز اسلام آباد کی سیشن عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پر شہباز گل کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

وکیل ملزم نے عدالت میں کہا تھا کہ مدعی سٹی مجسٹریٹ نے شہباز گل پر بغاوت کاالزام لگایا ہے، مقدمےکے بعد بیان میں مزید5 ملزمان کو نامزد کیا گیا ،شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔

شہباز گل کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹرانسکرپٹ کےمختلف جگہوں سےپوائنٹ اٹھاکرمقدمہ کیاگیا، سارے بیان پر کسی جگہ پر غلطی فہمی پیدا ہوئی ہے ، شہباز گل اس غلط فہمی کو دور کرنے اور معافی مانگنے پر بھی تیار ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ شہباز گل کا کوئی قصور نہیں، ہمارے محافظوں پر ہماری جان بھی قربان ہے، شہباز گل نے اس ٹوئٹ پرسزا کا مطالبہ کیا تھا، جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ شہبازگل ایک پڑھا لکھا شخص ہے، ان کو 3 دفعہ یوایس اے کا بیسٹ آف پروفیسر کا ایوارڈ ملا ہے، اگرہمت ہے تو غداروں کو نکال باہر کریں، شہباز گل نے فوج کو ہمارے سر کا تاج کہا ہے۔

انھون نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عمران خان اور اس کی جماعت ان شہدا کے خلاف ہو ، شہباز گل نے جو کہا وہ فوج کےخلاف نہیں تھا، بتانے کیلئے کہا تھا کہ دیکھو کیا ہو رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں