The news is by your side.

Advertisement

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل، شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈمیں 6 دسمبرتک توسیع

لاہور : آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دسمبر تک توسیع کردی، نیب وکیل نے انکشاف کیا کہ شہباز شریف نے چھ کروڑ کے تحائف قریبی عزیزوں کو دیے جبکہ ان کی آمدن ڈھائی کروڑ تھی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شہبازشریف کیخلاف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی ، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مزید ریمانڈ کے لئے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو عدالت میں پیش کیا، پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کے باہر سخت کے سیکیورٹی انتطامات کئے گئے تھے۔

سماعت مین عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا رمضان شوگرملزکی دستاویزات کیوں فائل میں لگا دیں،آپ آشیانہ ہاؤسنگ پربات کریں ،جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے خلاف کچھ مشکوک بینک ٹرانزیکشن ملی ہیں، راہداری ریمانڈکی وجہ سے تفتیش نہیں ہوسکی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا شہبازشریف کو مشکوک بینک ٹرانزیکشن پر دیئے سوالنامہ دیا ، کل جواب دیاگیا، شہباز شریف کا جواب تسلی بخش نہیں ، شہباز شریف نے اکثرسوالوں پر کہا مجھے یاد نہیں یا وکیل سے پوچھ کربتاؤں گا۔

شہباز شریف نےچھ کروڑکےتحائف قریبی عزیزوں کو دیے جبکہ ان کی آمدن ڈھائی کروڑتھی

نیب

پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ 6 کروڑکےتحائف قریبی عزیزوں کودیے، آمدن ڈھائی کروڑ تھی، ہوسکتا ہے آمدن شو کرنے سے پہلے تحائف تقسیم کر دیئے گئے، معاملہ تفتیش طلب ہے، 17 – 2011 میں 20کروڑ کی جائیداد بیچی،رقم چیک کے ذریعے ملی، 6 کروڑ کہاں سے آئے وہ ابھی واضح نہیں، عدالت مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈمیں توسیع کرے۔

وکیل شہباز شریف نے کہا میرے پاس موجود تمام دولت کا قانونی ثبوت موجود ہے، نیب بلا جواز جسمانی ریمانڈ مانگ رہا ہے ،آمدن الگ بات ہے اور کسی کو تحفے کے لئے رقم اور چیز ہے، کروڑ کی جائیداد بیچی قریبی عزیزوں کو تحائف دیناجرم نہیں ، نیب بتائے کیا کوئی ایسی ٹرانزیکشن ہے، جسے کرپشن سے جوڑا جاسکے۔

شہباز شریف کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ نیب 55روزہ جسمانی ریمانڈ کے باوجود کرپشن کا ثبوت پیش نہ کرسکی، نیب کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جائے۔

وکیل نے کہا میڈیا کہہ رہا ہے، ریفرنس منظوری کے لیے چیئرمین نیب کو بھجوادیا، جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ میڈیا کوئی عدالت نہیں عدالت میں ریفرنس بھیجا جاتا ہے، وکیل نے مزید کہا ڈی جی نیب نے انٹرویوز میں کہا نومبر کے آخر تک چالان جمع ہوجائے گا۔

عدالت نے کہا ڈی جی نیب کا یہ بیان الارمنگ ہے کہ 15دن پہلے چالان جمع کرانے کا اعلان کردیا،وکیل نیب کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے 2011 میں تحائف دیے مگر وہ گوشواروں میں ظاہر نہیں، عدالت نے سوال کیا شہبازشریف کے2011 کے پیسوں سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کا کیا تعلق؟

وکیل شہبازشریف نے کہا میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈبنایاجائے اور شہبازشریف کو صاف ستھرا کمرہ اور دھوپ کے لئے بھی انتظام کیا جائے۔

عدالت نے نیب کی درخواست پر شہبازشریف کےجسمانی ریمانڈمیں9دن کی توسیع کر دی اور شہباز شریف کو 6 دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

مزید پڑھیں : احتساب عدالت نے شہبازشریف کا 7 روزہ راہداری ریمانڈ دے دیا

واضح رہے نیب لاہور نے5 اکتوبر کو شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم ان کی پیشی پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

اگلے روز شہبازشریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا گیا تھا۔

جس کے بعد 16 اکتوبر کو ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کیا گیا تو احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 30 اکتوبرتک توسیع کردی تھی۔

ریمانڈ ختم ہونے پر شہبازشریف کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تو (نیب) نے آشیانہ اسکینڈل کیس کے ملزم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مزید 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی ، جس پر عدالت نے ان کے ریمانڈ میں مزید  توسیع کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں