The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ریفرنس: مریم نواز، حسن، حسین نےجعلی دستاویزات جمع کرائے‘ واجد ضیاء

اسلام آباد: احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے اکاؤنٹ کی ٹرانزکشنزکا اصل ریکارڈ نجی بینک منیجرنورین شہزادی نے عدالت میں پیش کیا اور انہوں نے نوازشریف کی طرف سے جاری چیکس بھی پیش کیے۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے عدالت میں کہا کہ ظاہر کیا گیا تھا اسکریپ دو ٹرکوں میں گیا جبکہ حسین نواز نے جے آئی ٹی کوبتایا مشینری50سے 60 ٹرکوں پرمنتقل ہوئی۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ کہا گیا مشینری کوالعزیزیہ اسٹیل مل جدہ کے قیام میں استعمال کیا گیا، جے آئی ٹی اس نتیجے پرپہنچی ملزم حسین نواز نےغلط بیانی سے کام لی۔

نوازشریف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ گواہ متن پڑھ رہا ہے جو قابل قبول شہادت نہیں ہے اور واجد ضیاء حسین نواز کے مبینہ بیان پر انحصار کر رہے ہیں۔

واجد ضیاء نے کہا کہ شواہد کے مطابق مریم، حسن، حسین نے جعلی دستاویزات جمع کرائے، لندن فلیٹس کی خریداری و دیگر کاروبارکی دستاویزات جعلی نکلیں۔

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے ایک بار پھراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ کا یہ بیان اس کی رائے پر مشتمل ہے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اسکریپ دبئی سے جدہ جانے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

بعدازاں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی، واجد ضیاء کل بھی اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

اگراعتراض ہمارا حق نہیں توپھر یہاں رہنےکا بھی ہمیں حق نہیں‘ خواجہ حارث

خیال رہے کہ واجد ضیاء نے احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے مریم نواز کے نام جاری کردہ بینک چیکوں کی تفصیلات پیش کی تھی۔

جے آئی ٹی سربراہ کے بیان پرخواجہ حارث نے سوالات کیے تھے جس پرنیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو میٹیریل آیا، جن پر تفتیش ہوئی، وہ ہم جمع نہ کرائیں؟۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ ہم یہ جمع نہ کرائیں، جن چیزوں پر ریفرنس بنا وہ چیزیں تو جمع ہوں گی، دولائن کا بیان آتا ہے تو چھ لائن کا اعتراض آجاتا ہے۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اسی لیے کہا تھا کہ واجد ضیاء کا بیان ایک ہی دفعہ کرلیں، اس دفعہ یہ سوچ کر آئے ہیں کہ ہم نے یہ کرنا ہے، اعتراض کرنا ہمارا حق ہے۔

شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی مدت سماعت میں توسیع

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے 9 مئی کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو ایک ماہ کا وقت دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے نوازشریف اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کوٹرائل مکمل کرنے کی تاریخ میں 9 جون تک کی توسیع کردی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں