site
stats
پنجاب

اورنج لائن ٹرین: ہائی کورٹ میں تاریخی عمارتوں سے متعلق کیس کافیصلہ محفوظ

لاہور: ہائی کورٹ نے اورنج ٹرین منصوبےکے راستے میں آنے والی بارہ تاریخی عمارتوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان اورماحولیاتی آلودگی کے خلاف دائردرخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابدعزیزشیخ اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل دو رکنی بنچنے چھ ماہ تک کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزاروں کے وکیل اظہرصدیق ایڈووکیٹ نےموقف اختیار کیا تھا کہ اورنج ٹرین منصوبے کے راستے میں آنے والے شالا مار باغ، چوبرجی، گلابی باغ، ایوان اوقاف، جی پی او بلڈنگ، بڈھو کا آواہ، مزاردائی انگہ سمیت بارہ تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچے گا جبکہ اس منصوبے سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ماحولیات اور آثار قدیمہ نے قانونی ضابطوں کے بغیر اورنج ٹرین منصوبے کے لئے این او سی جاری کئے۔

انہوں نے بتایا کہ شہنشاہ ہند جلال الدین اکبر کا شاہی فرمان موجود ہے کہ ان تاریخی عمارتوں اور اردگرد کی اراضی کو قیامت تک نہ چھینا جاسکتا ہے نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں عدالتی معاون علی ظفرنے بھارتی عدلیہ کے جنتر منتر، تاج محل، مقبرہ ہمایوں کے مقدمات کے فیصلوں کے حوالے دئیے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں کہ تاریخی عمارتوں کی حیثیت کو نہ ہی چھینا جاسکتا ہے نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاریخی عمارتوں کے اردگرد کثیر المنزلہ عمارتیں قائم نہیں کی جا سکتیں جبکہ غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں۔

حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے عدالت میں یونیسکو کی رپورٹ کو من وعن تسلیم کرنے اورمنصوبے کاازسرنو جائزہ لینے کے لئے غیرجانبدارماہرین پر مشتمل کمیٹی کے قیام کو قبول کرنے سے انکارکردیا جس پرعدالت نے اورنج ٹرین منصوبےکے راستے میں آنے والی بارہ تاریخی عمارتوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان اورماحولیاتی آلودگی کے خلاف دائر درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت نے منصوبے کی شفافیت کے خلاف دائردرخواستوں اورشہنشاہ ہند جلال الدین اکبرکے شاہی فرمان کا جائزہ لینے کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت عدالتی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی۔ عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے رواں برس اٹھائیس جنوری سے تاریخی عمارتوں کے اردگرداورنج ٹرین منصوبے پر تاحکم ثانی تعمیرات روکنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ عدالتی معاونت کے لئے اب تک اس کیس میں پندرہ ہزار کے قریب دستاویزات عدالت میں پیش کی جا چکی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top