The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کی نئی اقسام سے ماہرین پریشان

کرونا وائرس کو دنیا کو اپنا شکار بنائے ایک سال سے زیادہ ہوچکا ہے اور اس کی ویکسین بھی تیار کی جاچکی ہے، تاہم اب اس کی نئی اقسام بھی سامنے آرہی ہیں جنہوں نے ماہرین کو پریشان کر رکھا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی کم از کم 4 نئی اقسام نے سائنسدانوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے، ان میں سے ایک تو وہ ہے جو سب سے پہلے جنوب مشرقی برطانیہ میں سامنے ٓئی اور اب تک کم از کم 50 ممالک میں پہنچ چکی ہے۔

یہ قسم بظاہر پرانی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت سے لیس نظر آتی ہے، 2 اقسام جنوبی افریقہ اور برازیل میں نمودار ہوئیں جو وہاں سے باہر کم پھیلی ہیں مگر ان میں آنے والی میوٹیشنز نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔

ایک اور نئی قسم امریکی ریاست کیلی فورنیا میں دریافت ہوئی ہے جس کے بارے میں بہت زیادہ معلومات ابھی حاصل نہیں۔ اب تک سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ نئی اقسام بیماری کی شدت کو بڑھا نہیں سکیں گی جبکہ ویکسین کی افادیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

بی 1.1.7

سائنسدانوں کی توجہ سب سے زیادہ بی 1.1.7 پر مرکوز ہے جو سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت ہوئی تھی۔ امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے حال ہی میں خبردار کیا گیا تھا کہ اس نئی قسم کا پھیلاؤ وبا کو بدترین بناسکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب تک جو معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسانی مدافعتی نظام نئی اقسام کو ہینڈل کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری کی شدت میں اضافے یا کمی کا باعث نہیں، یہ اسپتال میں زیر علاج افراد کی تعداد یا اموات میں بھی تبدیلی نہیں لاتی، اب تک ہم نے جو جانا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا پھیلاؤ بالکل پرانی اقسام کی طرح ہے۔

جو اقدامات اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے گئے ہیں وہ نئی اقسام کی روک تھام میں بھی مددگار ہوں گے، جیسے فیس ماسک کا استعمال، سماجی دوری، ہجوم میں جانے سے گریز اور اکثر ہاتھ دھونا۔

بی 1.3.5.1

جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم کو بی 1.3.5.1 یا 501Y.V2 کا نام دیا گیا ہے، جس میں میوٹیشنز برطانوی قسم سے مختلف ہیں، جس کی وجہ سے اسپائیک پروٹین کی ساخت میں زیادہ تبدیلیاں آئی ہیں۔

ایک اہم میوٹیشن E484K سے ریسیپٹر کو جکڑنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے جو کہ وائرس کو خلیات میں داخل ہونے میں مدد دینے والا اہم ترین حصہ ہے۔

اس سے وائرس کو جزوی طور پر ویکسینز کے اثرات سے بچنے میں بھی مدد مل سکتی ہے تاہم ابھی اس حوالے سے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

ویکسینز تیار کرنے والی کمپنیاں اور محققین کی جانب سے اس قسم کے نمونوں پر آزمائش کی جارہی ہے، تاکہ دیکھا جاسکے کہ کیا واقعی یہ قسم ویکسین کے مدافعتی ردعمل کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہے یا نہیں۔

پی 1 اور پی 2

یہ دونوں اقسام سب سے پہلے برازیل میں نمودار ہوئی تھیں، جن میں سے پی 1 قسم کو ایک سروے میں برازیل کے شہر میناوس میں 42 فیصد کیسز میں دریافت کیا گیا اور جاپان میں بھی برازیل سے آنے والے 4 مسافروں میں اسے دیکھا گیا۔

سی ڈی سی کے مطابق یہ نئی قسم کرونا وائرس سے بیمار ہونے والے افراد کو دوبارہ بیمار کرنے یا تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ صلاحیت رکھتی ہے۔ اس قسم میں بھی E484K میوٹیشن کو دیکھا گیا ہے۔

پی 2 بھی سب سے پہلے برازیل میں نظر آئی اور جنوری میں اسے 11 افراد میں دریافت کیا گیا۔

ایل 425 آر

یہ نئی قسم امریکی ریاست کیلی فورنیا میں نمودار ہوئی ہے جس کے بارے میں ابھی تحقیقی کام کیا جارہا ہے۔ تاہم اب تک عندیہ ملتا ہے کہ اس کے اسپائیک پروٹین میں میوٹیشن ہوئی ہے تاہم ابھی واضح نہیں کہ یہ زیادہ آسانی سے پھیل سکتی ہے یا نہیں۔

ایک تحقیق میں لاس اینجلس کی تحقیقی ٹیم نے نومبر کے آخر اور دسمبر میں 192 مریضوں میں سے 36 فیصد میں اس نئی قسم کو دریافت کیا، جبکہ جنوبی کیلی فورنیا میں یہ شرح 24 فیصد تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں