لندن : برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم "اسٹریٹس”تیزی سے پھیلنے لگی ، نئی اقسام کی علامت کووڈ کی علامات سےمماثلت رکھتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم "اسٹریٹس” (Stratus) پہنچ چکی ہے، جو تیزی سے پھیل رہی ہے اور انگلینڈ میں ریکارڈ ہونے والے نئے کیسز کی بڑی تعداد اسی سے منسلک ہے۔
یو کے ہیلتھ سروس ایجنسی نے بتایا کہ رواں سال اب تک کورونا انفیکشن کی بلند ترین شرح دیکھی جا رہی ہے، اگست سے متاثرین کی تعداد دوگنا بڑھ گئی ہے۔
یہ نیا ویرینٹ، جسے سائنسی طور پر XFG اور اس کی ذیلی قسم XFG.3 کہا جاتا ہے، دراصل اومیکرون کا سب ویرینٹ ہے۔
کورونا علامات
اسٹریٹس میں عام کورونا علامات جیسے بخار، کھانسی، گلے کی خراش اور ذائقے یا خوشبو میں تبدیلی شامل ہیں، تاہم مریضوں نے خاص طور پر ایک تیز بلیڈ جیسی گلے کی خراش کو نمایاں علامت قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں : نئے کورونا ویرینٹ نمبس کی امریکا میں انٹری
یو کے ہیلتھ سروس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسٹریٹس برطانیہ میں زیادہ تر نئے کیسز کا سبب ہے، لیکن موجودہ ڈیٹا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ یہ ویرینٹ پہلے سے زیادہ خطرناک یا مہلک ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اسٹریٹس کے خلاف ویکسینز مؤثر رہیں گی اور کیسز کی مجموعی سطح کو اب بھی "کم” قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی صورت حال
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے XFG کو "variant under monitoring” قرار دیا ہے اور اندازہ لگایا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 60 فیصد نئے کیسز اسی قسم سے منسلک ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسٹریٹس کی تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ اس کی زیادہ متعدی صلاحیت ہے جو پچھلے ویرینٹس کے مقابلے میں مدافعتی نظام کو کچھ حد تک بائی پاس کر سکتی ہے۔ تاہم اس کا اضافی گروتھ ایڈوانٹیج صرف 31 فیصد ہے، جو کہ 2021 میں دنیا کو متاثر کرنے والے اومیکرون کے 200 فیصد ایڈوانٹیج سے کہیں کم ہے۔
کیسز میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی لہریں کسی بھی وقت آسکتی ہیں، لیکن زیادہ شدت عام طور پر گرمیوں یا سردیوں کے آغاز میں دیکھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کی کورونا سے حاصل شدہ مدافعت کم ہو رہی ہے، کیونکہ پچھلی ویکسینز یا انفیکشن سے بننے والی اینٹی باڈیز وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو رہی ہیں۔


