The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی، عوام نے فیصلہ مسترد کردیا

سری نگر: جموں و کشمیر کی عدالت نے ریاست میں گائے اور بھینس کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر زمین مزید تنگ کر دی گئی۔

یہ فیصلہ ڈویژنل بنچ میں شامل جسٹس ڈھیرج لعل سنگھ ٹھاکر اور جسٹس جانک راج کوتوال نے ایڈووکیٹ پری موکش سیٹھ کی جانب سے گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کیلئے دائر درخواست پر سنایا۔

عدالت نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایات جاری کیں کہ وہ تمام پولیس افسران خاص طور پر ضلعی افسران (ڈی ایس پیز) اور اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کا حکم جاری کریں۔

ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں بتایاکہ خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، دوسری جانب کٹھ پتلی حکومت نے ممکنہ مظاہروں کو روکنے کے لئے میرواعظ عمر فاروق کو نظر بند کر دیا۔

ادھر حریت رہنما آسیہ اندرابی نے حکم ہوا میں اڑاتے ہوئے اپنی رہائش گاہ پر گائے ذبح کرائی۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان گائے کے گوشت پر پابندی کیخلاف پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے سڑکو ں پر نکل آئے۔

کشمیریوں نے بھارتی کٹھ پتلی سرکار کی جانب سے گائے کے ذبح اور گوشت پر پابندی کو مسترد کر دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں