پنجاب کے شہر مظفر گڑھ کے ضلع لنگر سرائے میں نامعلوم ملزمان نے گائے کی زبان کاٹ دی۔
محکمہ لائیو اسٹاک کا کہنا ہے کہ گائے کی آدھی زبان تیز دھار آلے سے کاٹی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ چارہ کھانے سے قاصر ہے۔
گائے کے مالک کا کہنا ہے کہ ہماری بکریوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانہ صدر میں درخواست موصول ہوگئی ہے ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔
پاکستان میں بے زبان جانوروں پر جسمانی تشدد تو عام بات ہے مگر کچھ عرصہ سے ان کے جسمانی اعضا کاٹے جانے اور ہلاک کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ سال دسمبر میں بلوچستان کے علاقے روجھان جمالی میں ایسا ہی ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس میں با اثر زمیندار نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔
اس بے زبان اونٹ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس کے کھیتوں میں داخل ہو گیا تھا۔ با اثر زمیندار نے اونٹ کو وہاں سے بھگانے کے بجائے طیش میں آ کر کلہاڑیوں کے وار کر کے اس کی ٹانگ کو کاٹ دیا۔
ظلم کی یہ داستان جب سوشل میڈیا پر تصویروں کی صورت میں وائرل ہوئی تو پولیس کو بھی ہوش آیا اور اس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


