The news is by your side.

Advertisement

آزادی سے متعلق متنازع بیان، کنگنا کی مشکلات میں‌ ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ

کنگنا رناوت کی جانب سے دیے جانے والے متنازع بیان پر معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی آزادی سے متعلق شعلہ بیانی پر جہاں کنگنا رناوت کو عوام کی شدید تنقید کا سامنا ہے وہیں اب یہ مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے کہ اُن سے بھارت کا سب سے بڑا سول (پدم شری) ایوارڈ واپس لیا جائے۔

بھارتی ریاست بنگال کے سینئر رہنما سوجن چکرورتی نے بھارت کے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ کنگنا رناوت کے بیان کا نوٹس لے کر اُن سے پدم شری ایوارڈ واپس لیں۔

سی پی ایم کے رہنما سوجن چکرورتی نے کہاکہ ’متنازع بیان دینے والی اداکارہ بھارت کے سب سے اہم اعزاز کی حق دار نہیں ہیں، اُن کا آزادی سے متعلق بیان قابل مذمت ہے، جس پر ہر شخص مشتعل ہے اور جو اس پر خاموش ہیں وہ برابر کے مجرم ہیں‘۔

مزید پڑھیں: کنگنا رناوت کا متنازعہ بیان : لینے کے دینے پڑگئے

یہ بھی پڑھیں: کنگنا رناوت نے 1947 کی آزادی کو ‘بھیک’ قرار دے دیا

سی پی ایم کے سرکردہ رہنما کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہوتا کہ بھارت کے صدر کنگنا سے یہ اعلیٰ اعزاز واپس لے لیتے، آزادی کی بے حرمتی کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے’۔

یاد رہے کہ کنگنا رناوت نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں بھارت کو 1947 میں ملنے والی آزادی سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھارت کو اصل آزادی 2014 میں ملی جبکہ 1947 میں ملنے والی آزادی دراصل بھیک تھی‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں