site
stats
پاکستان

سیاست میں‌ ہوتا تو پی ٹی آئی جوائن کرتا، یونس خان

کراچی: قومی کرکٹر یونس خان نے کہا ہے کہ اگر وہ سیاست میں آئے اور کوئی پارٹی جوائن کرنا پڑی تو پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کروں گا۔

یہ بات انہوں نےاے آر وائی نیوز کے پروگروام ’’شان افطار‘‘ میں میزبان صنم بلوچ سے کہی۔

میزبان صنم بلوچ نے یونس خان سے سوال کیا کہ اگر آپ سیاست جوائن کرتے تو کس پارٹی میں شامل ہوتے؟

جواب میں یونس خان نے کہا کہ وہ سیاست جوائن کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے لیکن اگر مجھے سیاست کرنے کا کوئی موقع ملتا یا میں سیاست کرنا چاہتا تو ظاہر سی بات ہے چوں میں ایک اسپورٹس مین ہوں اس لیے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوتا۔ (دیکھیں ویڈیو)


قبل ازیں صنم بلوچ نے ان سے سوال کیا کہ بورڈ پر لگے بیس نمبرز میں سے کوئی ایک نمبر چوائس کریں اور بتائیں کہ ان میں سے کس کا ارادہ سیاست کرنے کا ہے یونس خان نے 14 نمبر چنا صنم بلوچ نے وہ کارڈ اٹھایا تو اس پر یونس خان ہی کی تصویر لگی ہوئی تھی۔

انگلینڈ میں شاپنگ سینٹر پر لڑکی اچھی لگی، پیچھا کرکے نمبر مانگ لیا


میزبان صنم بلوچ نے پوچھا کہ کتنی لڑکیوں نے آپ کو فون کیا اور کتنی بار آپ خود لڑکیوں کی طرف راغب ہوئے؟ جواب میں یونس خان نے بتایا کہ میرا دل بھی بہت مرتبہ ٹوٹا، 2003 یا 2004 کی بات ہوگی انگلینڈ یا ساؤتھ افریقا میں شاپنگ مال پر ایک لڑکی اچھی لگی، اس کا پیچھا کرکے اسے روکا اور ایک دم صاف بات کرتے ہوئے اس کا نمبر مانگ لیا تاہم لڑکی نے آئی ایم ناٹ انٹڑسٹڈ کہہ کر منع کردیا۔

دوبارہ کسی لڑکی سے نمبر نہیں مانگا

انہوں نے کہا کہ یہ زندگی میں پہلی بار ہوا اور ایک ہی بار ایسا ہوا کہ میں کسی لڑکی کے پیچھے گیا اور ایسا کہا زندگی میں دوبارہ ایسا نہیں ہوا۔
لڑکی کے انکار پر سیدھا وہاں سے بھاگ نکلا پھر دوبارہ ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔

لوگوں نے بہت عزت دی، جہاں جاؤں کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں

اتنی شہرت کی امید تھی؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ کرکٹ شوق کے لیے شروع کی تھی یہ امید نہیں تھی کی اتنی پذیرائی اور اتنی شہرت ملے گی، سب سے اچھا صلہ یہ ملا تو کہیں بھی جاتا ہوں تو لوگ کھڑے ہو کر استقبال کرتے ہیں اور عزت دیتے ہیں میں یہ لمحات لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔


انہوں نے کہا کہ 80ء کی دہائی میں مردان سے کراچی آیا تو اسٹیل مل کے ٹاؤن گلشن حدید میں رہائش اختیار کی اور آج بھی وہیں رہائش پذیر ہوں۔

کہا گیا اسٹار بننا ہے تولاہور شفٹ ہوجاؤں مگر نہیں گیا
مجھے کہا گیا کہ اگر بڑا اسٹار بننا ہے تو آپ کو لاہور شفٹ ہونا پڑے گا مگر میں نے جواب دیا کہ اگر اسٹار بننا ہے تو یہیں مردان یا کراچی میں رہتے ہوئے ہی بنوں گا۔

ابو سخت تھے، کئی بار پٹائی کی

انہوں نے مزید بتایا کہ ابو بہت غصے والے تھے، گلی میں جب محلے والوں کے شیشے اور بلب کرکٹ کھیلتے ہوئے توڑ دیتا تھا تو ابو کا سخت ہاتھ پڑتا اور کئی دن تک محسوس ہوتا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top